چین کا 8/ جنوری سے قرنطینہ کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ

بیجنگ:27/ٖڈسمبر ( بی بی سی نیوز)چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی شرط آٹھ جنوری سے ختم کر رہا ہے۔تین سال تک چین نے اپنی سرحدیں بند رکھی ہیں۔ اس فیصلے سے ملک دوبارہ کام، پڑھائی اور اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے آنے والوں کے لیے کھل جائے گا۔تاہم یہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب چین پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے وائرس کے تیز پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق وہاں ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے کیونکہ عمر رسیدہ افراد تیزی سے کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔

اس وقت ملک میں نئے کیسز اور اموات کے درست اعداد و شمار نامعلوم ہیں کیونکہ سرکاری سطح پر کووڈ کے اعداد و شمار شائع نہیں کیے جا رہے۔بیجنگ کی جانب سے گذشتہ ہفتے ہر روز چار ہزار سے زیادہ نئے کیسز اور چند اموات رپورٹ کی گئی تھیں۔اتوار کو چین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ کیسز کی تعداد شائع نہیں کریں گے۔تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ صحت سے متعلق اعداد و شمار شائع کرنے والی کمپنی ایئرفنیٹی کے اندازے کے مطابق چین میں ہر روز پانچ لاکھ سے زیادہ کیسز اور پانچ ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

چین دنیا کی وہ آخری بڑی معیشت ہے جس نے تین سال کے لاک ڈاؤنز، سرحدوں کی بندش، قرنطینہ کی شرط کے بعد بالآخر ’کووڈ کے ساتھ زندگی گزارنے‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔اس نام نہاد زیرو کووڈ پالیسی نے معیشت پر برے اثرات بھی ڈالے اور شہری ان پابندیوں اور بار بار کیے گئے ٹیسٹوں سے خاصے پریشان ہو گئے تھے۔اس پالیسی کے بعد صدر شی جن پنگ کے خلاف نومبر میں مظاہرے ہونا شروع ہو گئے تھے جس کے بعد حکام نے کووڈ سے متعلق قواعد میں اگلے ہی ہفتے نرمی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔مارچ 2020 سے جو بھی مسافر چین میں داخل ہوا، اس کے لیے سرکاری قرنطینہ مراکز میں زیادہ سے زیادہ تین ہفتے تک وقت گزارنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ حال ہی میں اس میعاد کو کم کر کے پانچ دن کر دیا گیا تھا۔تاہم پیر کو قومی ہیلتھ کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ کو آٹھ جنوری کو متعدی بیماریوں کی درجہ بندی میں کلاس بی میں ڈاؤن گریڈ کر دیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قرنطینہ کی شرط بھی ختم کر دی جائے تاہم ملک میں آنے والوں کو پی سی آر ٹیسٹ دینا ہو گا۔ تاہم ایک دن میں چین میں آنے والی پروازوں کی مجموعی تعداد میں کمی لائی گئی ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسے غیرملکیوں کو ویزا مراحل میں ’ترجیح‘ دیں گے جو چین میں کام اور پڑھائی کے سلسلے میں آنا چاہتے ہیں یا گھر والوں سے ملنے ملک واپس آ رہے ہیں۔فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا مطلب سیاحوں کو دیے گئے ویزا بھی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے پائلٹ پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔چینی شہریوں کی جانب سے ان نئے احکامات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے اکثر شہریوں کو ملک سے باہر جانے میں بھی آسانی ہو گی۔ ملک کی بڑی ٹریول ایجنسی نے اس فیصلے کے بعد لوگوں کی جانب سے درخواستوں میں اضافے کی اطلاع بھی دی ہے۔کچھ لوگوں نے اس حوالے سے غصے کا بھی اظہار کیا ہے کہ انھیں کئی سال تک پابندیوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ شنگھائی کی ریچل لیو نے کہا کہ ’میں خوش لیکن میرے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں۔ اگر ہم اتنی آسانی سے دوبارہ سب کھول رہے ہیں تو مجھے اس سال روز کووڈ ٹیسٹ اور لاک ڈاونز کے صعوبتیں کیوں برداشت کرنی پڑیں۔‘انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپریل کے بعد تین ماہ تک لاک ڈاؤنز کا سامنا کیا لیکن حالیہ ہفتوں میں ان کے خاندان کے تمام افراد کووڈ سے متاثر ہو چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading