کیری ایلن، بی بی سی مانیٹرنگ، چینی میڈیا تجزیہ کار

ReutersCopyright: Reuters
چین میں ماہرین نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی حصے میں کووڈ۔19 کے مریضوں میں کورونا وائرس کی مختلف علامات سامنے آ رہی ہیں اور انھیں مرکزی شہر وہان میں رہنے والوں کی نسبت زیادہ لمبے عرصے تک انکیوبیشن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے اعلیٰ ڈاکٹر کی ہائبو نے قومی سی سی ٹی وی۔13 نیوز چینل کو اپنی ٹیم کے نئے مشاہدات کے متعلق بتایا۔ ڈاکٹر کی نے کہا کہ ان کی ٹیم کو شمال مشرقی صوبوں ہیلونگ جیانگ اور جِلن میں نئے مریض ملے ہیں جنھیں زیادہ لمبے عرصے تک انکیوبیشن میں رکھا گیا اور ان کی کلینیکل علامات بھی عام نہیں ہیں۔
ڈاکٹر کی نے کہا کہ مریضوں کو بخار نہیں چڑھتا، لیکن وہ تھکن یا گلے کی سوزش میں مبتلا ہیں۔ کچھ میں تو کوئی علامت بھی نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ نئے مریضوں میں وائرس کافی عرصے سے موجود تھا۔
اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق وہان کے مریضوں میں جب کوئی علامات نظر آتی ہیں تو ان کے ٹیسٹ کے نتائج عموماً ایک ہفتے یا زیادہ سے زیادہ دو ہفتے میں نفی آ جاتے تھے۔ لیکن اب، جب مریض صحت مند ہو سکتے ہیں، تو لگتا ہے کہ وائرس ان میں زیادہ عرصے تک رہتا ہے۔
سرکاری نیوز ایجنسی ژینوا کے مطابق اس وقت شمال مشرقی جِلن کے ایک ہسپتال میں 25 افراد علاج کروا رہے ہیں۔
ہیلونگ جیانگ صوبے میں سنیچر کو آخری مریض کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔