پولرائزیشن اور مذہبی منافرت کی بنیادپر حکومت مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی ہے:اشوک چوہان

ممبئی:20نومبر ۔(ورقِ تازہ نیوز) ریاستی کانگریس کے صدر اشوک چوہان نے آ ج یہاں حکومت پر فرقہ پرستی کی بنیاد پر مسلم ریزرویشن نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندووں اور مسلمانوں میں منافرت پیدا کرنے اورپولرائزیشن کی سیاست کرنے کے لئے ریاستی بی جے پی حکومت مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم رکھنا چاہتی ہے ، جبکہ ہماری سابقہ حکومت نے دستور وقانون کے عین مطابق مراٹھا برادری کے ساتھ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دیا تھا،جس کی عدالت نے بھی منظوری دی تھی۔ یہ حکومت ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بٹوارہ چاہتی ہے اور اسی غرض سے اس نے مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی ہے۔ اشوک چوہان یہاں پارٹی کے دفتر گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے اور مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیئے جانے کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال پر وہ جواب دے رہے تھے۔اشوک چوہان نے کہا کہ مسلمانوں کو جو ریزرویشن دیا گیا تھا، وہ خالص مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر تھا نہ کہ مذہب کی بنیاد پر، لیکن یہ حکومت مذہب کا سہارا لے کر لوگوں کو گمراہ کررہی ہے۔ انہو ںنے کہا کہ اگر ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر دیا گیا ہوتا عدالت اسے کسی طور منظور نہیں کرتی۔ اشوک چوہان نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کے لئے ہماری حکومت نے رانے کمیشن اور مسلم ریزرویشن کے لئے ڈاکٹر محمودالرحمان کمیٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنایا تھا۔ ان دونوں کمیٹیوںکی بنیاد پر مراٹھا برادری کو ۶۱فیصد اور مسلمانوں کو ۵فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا۔ اس پر عمل بھی شروع ہوگیاتھا جس کا فائدہ بھی لوگوں کو حاصل ہوا تھا، لیکن اس حکومت نے قصداً آریننس کو لیپس ہوجانے دیا اور اسے قانونی درجہ نہیں دیا۔ اشوک چوہان نے کہا کہ جب یہ معاملہ عدالت میں پہونچا تو حکومت نے خاطر خواہ طریقے سے اس کی پیروی نہیں کی، جس کی وجہ سے مراٹھا ریزرویشن پر عدالت نے روک لگادی لیکن مسلم ریزرویشن کو جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے باوجود یہ حکومت محض فرقہ پرستی کی بنیاد پر مسلمانوں کے ریزرویشن کو کالعدم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۳ سال سے بی جے پی حکومت نے صرف وقت گزارتی رہی تاکہ یہ معاملہ موخر ہوتا رہے۔ تقریباً ۸۱مہینے اس حکومت نے عدالت میں حلف نامہ تک داخل نہیں کیا انہوں نے کہا کہ بی جے پی وشیوسینا کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مراٹھا ریزرویشن گزشتہ چار سال سے اٹکا ہوا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں جلد ازجلد کارروائی مکمل کرکے او بی سی ودیگر کسی بھی سماج کے ریزرویشن میں کوئی مداخلت نہ کرتے ہوئے مراٹھا برادری کو ۶۱فیصد اس طرح ریزرویشن دے جو عدالت قابل قبول ہو۔ اشوک چوہان نے ممبئی ناگپور سمردھی ایکسپریس وے کانام پر بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر رکھنے کے شیوسینا کے وزیر ایکناتھ شندے کے مطالبے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی شیوسینا تھی جو ابتداءمیں سمردھی ایکسپریس وے کی مخالفت کررہی تھی اور اب یہ نہ صرف اسے قبول ہوگیا ہے بلکہ اس کا نام بھی تجویز کرنے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمردھی ایکسپریس وے سے کسی کسی سمردھی بھلے نہ ہوئی ہو، لیکن شیوسینا کی سمردھی ہوچکی ہے، یہ واضح ہوتا ہے۔ اس سے شیوسینا کی اقتدار کی لالچ اور اس کا دوہرا کردار سامنے آتا ہے۔ رام مندر کی تعمیر کے لئے شیوسینا کے بیانات پر اشوک چوہان نے کہا کہ الیکشن قریب آگیا ہے، اس لئے انہیں رام مندر کی یاد آنے لگی ہے۔ گزشتہ چار سال سے ان کی حکومت ہے، اتنے دنوں تک یہ کیوں سوئے ہوئے تھے؟ اس پریس کانفرنس میں ایم ایل اے بھائی جگتاپ، ایم ایل اے وجاہت مرزا، جنرل سکریٹری سچن ساونت، پرتھوی راج ساٹھے، مناف حکیم اور روندر آنگرے وغیرہ موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading