پربھنی کے کامل ایجوکیشن سوسائٹی کو اورنگ آباد ہائی کورٹ کا زبردست جھٹکا، سوسائٹی کی دائر کردہ رٹ پٹیشن مسترد و خارج

پربھنی (15 جولائی 2019) : پربھنی کے کامل ایجوکیشن سوسائٹی کی کُھلی و مبیّنہ 29 لاکھ روپیوں کی مالی بدعنوانی کا پردہ فاش ہونے کے بعد شہر کے یوسف کالونی میں واقع کامل اردو ہائی اسکول (امدادی) اور کامل جونیئر کالج (غیر امدادی) میں امسال 2020-2019 میں طلباء کو داخلہ نہ دینے اور والدین کو بھی اپنے بچوں کو داخلہ نہ کرانے کا حکم 18 اور 19 جون 2019 کے مکتوب کے ذریعے پربھنی ضلع پریشد ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) ڈاکٹر وندنا واہوڑ نے اپنے دستخط سے جاری کیا تھا. جس میں ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر وندنا واہوڑ نے اپنے حکمنامہ میں واضح کیا تھا کہ اورنگ آباد ہائی کورٹ میں ضلع بیڑ کے تعلقہ کیج کے ٹیچر شیخ صادق شیخ واحد نے پربھنی کے کامل ایجوکیشن سوسائٹی کے خلاف دائر کردہ رٹ پٹیشن نمبر 5960/2016 کے 25 اپریل 2019 کے اورنگ آباد ہائی کورٹ کے حکمنامہ کے بموجب بچوں کے مفت و لازمی تعلیم حق قانون 2009 کے مطابق کامل ایجوکیشن سوسائٹی پربھنی نے نظم و ضوابط کے شرائط کی پابندی بالکل نہیں کی تھی.

علاوہ ازیں سوسائٹی نے کامل اردو ہائی اسکول اور کامل جونیئر کالج کو ملنے والے سرکاری فنڈز 29 لاکھ روپیوں کا بھی غلط استعمال کیا تھا جس کے سبب ان دونوں مدارس کی منظوری منسوخ کی کاروائی کرنے کیلئے پانچ رکنی تفتیشی کمیٹی نامزد کی گئی تھی. ان دونوں مدارس کی منظوری منسوخ کرنے کی مکمل تفتیشی رپورٹ کا احوال بنا کر بلا تاخیر ایجوکیشن آفس میں پیش کرنے کی واضح ہدایت اس تفتیشی کمیٹی کو دی گئی تھی. تاکہ اورنگ آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو. لیکن ایجوکیشن آفیسر کے اس حکمنامہ کو چیلنج کرتے ہوئے اور تفتیشی کمیٹی کو روکنے کیلئے کامل ایجوکیشن سوسائٹی کے سیکریٹری نے اورنگ آباد ہائی کورٹ میں یکم جولائی 2019 کو رٹ پٹیشن نمبر 7689/2019 داخل کی تھی. جس میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی تھی. جس پر اورنگ آباد ہائی کورٹ نے 5 جولائی 2019 کو سوسائٹی کے خلاف چھ صفحات پر مشتمل اپنا سخت فیصلہ دیتے ہوئے ایجوکیشن آفیسر کے حکمنامہ کو صحیح و درست قرار دیا اور دونوں مدارس کی منظوری منسوخ کرنے والی تفتیشی کمیٹی کے کام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کامل ایجوکیشن سوسائٹی پربھنی کی رٹ پٹیشن کو مسترد و خارج کردیا. اور ساتھ ہی ساتھ سوسائٹی سے 29 لاکھ روپیوں کی وصولی کا بھی حکم دیا ہے. واضح رہے کہ دو سال قبل مذکورہ سوسائٹی کے دو ممبران کو یکم جولائی 2017 کو رشوت ستانی معاملے میں اینٹی کرپشن بیورو (ACB) پربھنی نے ایک ٹیچر کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے رنگے ہاتھ پکڑ کر نیا مونڈھا پولیس اسٹیشن پربھنی میں ان دونوں رشوت خور ممبران پر ایف آئی آر (FIR No. 240/2017) درج کی تھی.

علاوہ ازیں مذکورہ رشوت خور ممبران پر شکشک سنگھٹنا کے معزّز لیڈر سیّد رؤف قادری سر نے بھی غیر قانونی بے حسابی املاک کی کُھلی انکوائری کے ضمن میں ان دونوں بدعنوان ممبران کے خلاف اورنگ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی کریمینل رٹ پٹیشن نمبر 1338/2018 دائر کی ہوئی ہے. جس کا بھی فیصلہ جلد آنے کے امکانات ہیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading