سیلو: (ابرار بیگ):مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں میں کس قدر نفرت پیداکردی گئی ہے کہ معمولی معمولی بات کو لے کر مسلمانوں کو موب لنچنگ کا نشانہ بنانے کی کوششیں اب چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی ہونے لگی ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ سیلو میں پیش آیا جہاں پر بس میں سفر کے دوران انجانے میں مسلم نوجوان کا ہاتھ ایک لڑکی کو لگ گیا ،نوجوان کی جانب سے معافی مانگنے کے باوجود ہجوم نے اسے بُری طرح زدوکوب کیا۔زدوکوب کرنے والوں میں بس کنڈکٹر بھی شامل تھا۔
سیلو سے پاتھری جانے والی ایس ٹی بس نمبر ایم ایچ 20 بی ایل 3505 کنڈی گاوں کے قریب پہنچی اور لڑکی کو انجانے میں لڑکے کا ہاتھ لگنے کے بعد مسلم نوجوان نے لڑکی سے معافی مانگی لیکن بس ڈرائیور سنیل راوت نے بس کو واپس سیلو لے آیا۔ بس اسٹیشن پر پندرہ سے بیس غیر قانونی ہجوم نے جن میں بس کنڈکٹر وی بی کمبھکرن، بھارت راجے بھاؤ شندے، سنتوش سوپان گائیکواڑ نے عمران فاروقی نامی نوجوان کو تھپڑ لکڑی اور بیلٹ سے مارا جو روزہ دار تھا کیونکہ وہ مسلمان تھا کیونکہ اس کے چہرے پر داڑھی تھی۔
سیلو بس اسٹیشن کے ذمہ دار افسر نے واقعہ کی اطلاع پولیس محکمہ کو دیے بغیر بس اسٹیشن کے کیبن مُسلم نوجوان کو بڑے ہی بے دردی سے مار پیٹ شروع کی۔اس واقعہ میں ملزم بس کنڈکٹر وی بی کمبھکرن، بھارت راجے بھاؤ شندے، سنتوش سوپان گائیکواڑ کو گرفتار کرلیا گیا اور سیلو پولس اسٹیشن میں 18 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سنیل آندھارے سیلو پولس انسپکٹر راؤصاحب گادیواڑ کی رہنمائی میں واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں، مطالبہ کیا جارہا ہے کہ واقعہ کے تمام ملزمین کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور دو سماج کے بیچ نفرت پھیلانے کو روکنے کے لیے موب لیچنگ کا مقدمہ درج کیا جائے۔