پربھنی ( رپورٹ محمد ضیاءالدین ) مسلمانان پربھنی کے سب سے قدیم تعلیمی ادارہ موئید المسلمین نے اپنے قیام کیایک صدی مکمل کرلی ہے یہ وہ موقر ادارہ ہے جہاں سے مختلف شعبہ حیات کی معروف شخصیات نے تعلیم حاصل کی ہے اور آج وہاں ان کی چوتھی نسل تعلیم پارہی ہے اپنے دور قیام ہی سے اپنے معیار تعلیم کے لیے مشہور اس ادارے کے قیام کی ایک صدی مکمل ہوچکی ہے اسی ضمن میں اس ادارے کے انتظامیہ دی میمن مرچنٹس اسوسی ایشن نے اس ادارے کے صد سالہ جشن منانا طئے کیا ہے اسی ضمن میں کوشش کے عنوان سے اس ادارے کی جانب سے طلباءکی رہنمائی کے منعقد ہونے پروگرام کو جشن صدسالہ تقاریب کا افتتاحی پروگرام بنایا گیا اور اس پروگرام سے ان صد سالہ تقاریب کا آغاز کیا گیا ۔
گنگا پرساد منگل کاریالیہ کے وسیع ہال میں منعقدہ اس پرہجوم تقریب کا آغاز قاری اقبال صاحب کی مسحور کن تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کا مراٹھی ترجمہ معلم ریاض الرحمن نے پیش کی جب کہ اسی مدرسہ کے ایک چھوٹے طالب علم نے اپنی سریلی آواز میں نذرانہ نعت پیش کیا پروگرام کی مسند صدارت پر جناب امان سیٹھ مارفانی تھے جبکہ ڈایس پر بطور مہمانان خصوصی جناب ڈاکٹر انور علی شاہ ڈاکٹر شہاب ( اورنگ آباد ) موظف ڈایریکٹر آف ایجوکیشن آر ایس مغل راحت کو آپریٹیو کے صالح جاوید یافعی باغبان پنچ کمیٹی کے صدر سلیم سیٹھ موظف فاریسٹ آفیسر تحسین احمد خان ،خالد سیف الدین موجود تھے
مہانوں کا استقبال میمن مرچنٹس اسوسی ایشن کے عہدیداروں نے شال ہار پیش کر کے کیا مہمان خصوصی جناب مبارک کاپڑی کا استقبال حاجی غلام محمد مٹھو سیکریٹری د میمن مرچنٹ اسوسی ایشن ،خمیصہ جنید ینگ میمن مرچنٹ اسوسی ایشن و محمد ضیاءالدین نائب صدر سنٹر فار ایجوکشنل ایکسلینس نے کیا جناب خالد سیف الدین کو سپاس نامہ پیش کرکے ان کا خصوصی استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر اپنے ابتدائی کلمات میں حاجی غلام محمد مٹھو نے اس مدرسے کی تاریخ اس کی ضرورت اور اس کے قیام کے لیے آگے آنے والے نیک نفس لوگوں کی تفصیل پیش کرتے ہوے بتایا کہ اس صد سالہ جشن کے ضمن میں سال بھر قوم و ملت کے لیے کار آمدو نفع بخش تقاریب کا انعقاد کیا جاے گا خمیسہ جنید نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ جشن گزشتہ سوسال ہی کا نہیں آنے والے سو سال کا ایک لایحہ عمل ہوگا ۔ پروگرام کے کنوینر امیر خاں نے اس پروگرام کی شریک کار تنظیم سینتر فار ایجوکیشنل ایکسلنس کا تعارف پیش کرتے ہوے بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد شہر اور ضلع کے اردو مدارس کے تمام بچوں کے معیار تعلیم میں اضافہ کرنا ان کو مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے ترغیب دینا اور تیار کرنا اور مختلف پروگراموں کے ذریعہ طلباءکی مخفی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے کوشش کرنا نیز اساتذہ کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کرنا ہے اور تنظیم یہ کام بخوبی کررہی ہے ۔
مدرسہ ہذا کے ایکس اسٹوڈنٹ جناب تحسین احمد خاں ( جو رکن پارلیمان فوزیہ خاں کے شوہر ہیں ) مدرسہ ہذا سے چھہ دہائی قبل کی اپنی وابستگی کا تذکرہ کرتے ہوے آبدیدہ ہوگئے انھوں نے اس دور کے تمام اساتذہ کا نام بہ نام تذکرہ کرتے ہوے ان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہاں کہ یہ ان کی تدریس ہے کہ آج ساٹھ سال بعد بھی ان کی یادوں کی تپش سینے میں برقرار ہے انھوں نے موجودہ اساتذہ سے گزارش کی کہ وہ بھی اپنی تدریس کو اتنا موثر بنایں کہ پچاس برسوں بعد بھی یاد کیے جائیں اس موقع پر مہمانوں کے ہاتھوں صد سالہ تقاریب کے لوگو کو ڈسپلے کیا گیا اس موقع پر ضلع پریشد پرایمری اسکول گنگا کھیڑ کے صدر مدرس جاوید جاگیردار کو مثالی صدر مدرس کا ایورڈ ملنے پر ان کا اسقبال بھی کیا گیا اس موقع پر جناب مبارک کاپڑی نے اپنی طویل و بے تکان رہنمائی کا آغاذ اس بات سے کیا کہ آج غزہ میں ہمارے بے شمار بھائی بہن اور معصوم بچے بے دریغ قتل کیے جارہے ہیں کہ ان کا کوئی حمایتی نہیں ہے ان کی اس بے بسی کی شہادت پر ہمارے دل تڑپ رہے ہیں لیکن ہم سواے بیان بازی جلسے جلوس اور اظہار غم سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے اور ہم پر یہ بے بسی اس لیے طاری ہوئی کہ اسرائیل تکنالوجی اور سائنس میں آگے ہیں جب کہ یہاں ہمارا گزر ہی نہیں آج ہم کو غزہ کے شہیدوں کی شہادت پر اظہار افسوس سے زیادہ اہم یہ سونچنا ہے کہ ہم اس حالت کو کیوں پہنچے ؟ اگر ہم تکنالوجی کے میدان میں آگے ہوتے تو ہمیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا آج اقوام عالم کے آگے نہ سہی ان کے ہم قدم ہونے کے لیے ہم کو یہ عزم کرنا اور نہایت اخلاص سے اس پر عمل پیرا ہونا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمارے ہر گھر سے کم از کم ایک بچہ سائینس دان بن کر نکلے گا اور اس کے لیے ہم ہر قیمت کو چکانے کے لیے تیار رہیں ۔
جناب کاپڑی نے کہا کہ کیا المیہ نہیں کہ آج ہمارے معاشرے کے صرف دو فی صد لوگ ہی کام کررہے ہیں جب تک یہ فیصد بدلے گا نہیں قوم کی زبوں حالی دور نہ ہوگی ہماری قوم کی بے حسی و بے عملی کا بین ثبوت یہ ہے کہ فزکس کا نوبل پرایز پانے والے 56 یہودی جب کہ ایک ہی مسلمان ہے انھوں نے کہا کہ ہمیں آے دن نت نئے چیلنچز کا سامنا ہے درپیش نیو ایجوکشن پالیسی سے ہمارے عقاید کو خطرات لاحق ہیں ہمارا تاریخی و تہذیبی ورثہ خطرات سے دو چار ہے اس کے تحفظ کی اہم ذمہ داری اساتذہ پر ہے کہ وہ نصاب سے ہٹ کر اپنے عقاید و اپنی حقیقی تاریخ سے اپنے طلباءکو واقف کرائیں ہم کو اپنی تاریخ وتہذیب سے کاٹنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ویک اینڈ مدارس پر غور کرنا پڑے گا انھوں نے کہا کہ ایک حساس اور بیدار ٹیچر باہر کے فتنوں کو بہ آسانی کلاس روم میں ختم کر سکتا ہے مسلمانوں کے عقاید سے متصادم سائینسی نظریات کے بارے میں انھوں کہا کہ ہم سائینس کے خلاف نہیں کہ سارے سائینسی علوم کا منبع و مخزن قرآن مجید ہے انھوں نے قرآنی آیات کے حوالے سے جدیدعلوم کی تشریح کرتے ہوے کہا کہ جہاں سائینسی نظریات اسلامی عقاید سے متصادم ہیں وہاں کمزوری سائینس کی ہے کہ سائینس ابھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکی جہاں قرآن ہے۔ انھوں نے اس امر پر اظہار تاسف کیا کہ آج ریزرویشن کے لیے وہ بھی پانچ فیصد ریزرویشن کے کے لیے چیخ پکار ہورہی ہے جب کہ مسلم ممالک میں اونچے عہدوں پر مسلمانوں کو صد فیصد ریزرویشن تھا ( اور آج بھی ہے ) لیکن ہمارے پاس اس قابلیت کے لوگ نہیں اس لیے شارٹ کٹ کے راسٹے کو اختیار نہ کریں۔
کچھ پانے کے لیے قربانی دینا پڑے گی اور اس کے لیے ہم کو تیار رہنا پڑے گا ۔ تقریبا چار گھنٹے تک چلنے والے اس پروگرام میں نہ صرف شہر بلکہ اطراف کے تعلقہ جات سے بھی کثیر تعداد میںطلباءو طالبات کے علاوہ سرپرستوں و با شعور شہریوں کیایک بڑی تعداد شریک تھی ۔ میمن اسوسی ایشن کے اراکین ینگ میمن کمیٹی کے اراکین کے علاوہ سنٹر فار ایجوکشنل ایکسلنس کے تمام عہدیدار موجود تھے پروگرام کی نظامت اقبال سر نے کی امیر خاں سر کے شکریہ پرپروگرام اختتام پذیر ہوا ۔