پرانا کارڈ بند ہونے کے بعد بغیر پاس ورڈ والے اے ٹی ایم مل رہے ہیں

نئی دہلی ۔19۔جنوری ۔پچھلے چند سالوں سے بڑی تعداد میں صارفین کو مختلف بینکوں کے ویزا، ماسٹرکارڈ اور امریکن ایکسپریس کمپنی نئے کنٹیکٹ لیس ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ جاری کر رہی ہے۔ ان بینکوں میں ایس بی آئی، ایچ ڈی ایف سی، آئی سی آئی سی آئی، ایکسس اور آئی ڈی بی آئی جیسے بینک شامل ہیں۔ ان کارڈوں کے ذریعہ شاپنگ مالوں یا دکانوں میں دو ہزار روپئے تک کی شاپنگ کے لئے کسی بھی طرح کے پن کوڈ یا او ٹی پی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بس کارڈ کو پیمنٹ مشین سے ٹچ کرنے پر ہی پیمنٹ ہو جاتا ہے۔

کنٹیکٹ لیس کارڈ کی سیکورٹی سے جڑے سوال پر ماہرین کہتے ہیں کہ ان کارڈس سے سیکورٹی کو خطرہ تو ہے۔ کم از کم دو ہزار روپئے تک تو بغیر پن کوڈ شاپنگ کی جا سکتی ہے۔ حالانکہ بینک کے ایپ کے ذریعہ آپ اس کی حد طے کر سکتے ہیں۔بینکوں کا دعوی – بینک اپنے اشتہارات اور ویب سائٹس پر اسے زیادہ محفوظ بتا رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ اس سہولت سے کارڈ آپ کے ہاتھوں میں رہتا ہے اور کلوننگ کا خطرہ نہیں رہتا ہے۔ ساتھ ہی تین گنا تیز پیمنٹ کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔

کارڈ کیسے کرتا ہے کام۔ ان سبھی کارڈس پر ایک خاص نشان بنا ہوتا ہے۔ وہیں، جن پیمنٹ مشینوں پر ان کا استعمال ہوتا ہے وہاں بھی ایک خاص نشان () بنا ہوتا ہے۔ اس مشین پر تقریبا چار سینٹی میٹر کی دوری پر کارڈ رکھنا یا دکھانا ہو گا اور آپ کے کھاتے سے پیسے کٹ جائیں گے۔ کارڈ کو سوائپ کرنے یا ڈپ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور نہ ہی پن انٹر کرنا ہو گا۔زیادہ پیمنٹ کے لئے پن اور او ٹی پی ضروری۔ دو ہزار روپئے سے زیادہ کی پیمنٹ کے لئے ہی پن یا او ٹی پی کی ضرورت ہو گی۔ یعنی آپ کا کارڈ کسی اور کے ہاتھ لگ جائے تو وہ ایک بار میں کم سے کم دو ہزار روپئے تک کی خریداری کر سکے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جب تک آپ کو اس کا پتہ چلے تب تک وہ آپ کے کھاتے سے اس سے زیادہ پیسے اڑا چکا ہو۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading