’پب جی‘ پر پیار ، چار بچوں سمیت انڈیا جانے والی پاکستانی خاتون گرفتار

پاکستان کی ایک خاتون سیما غلام حیدر نے گیمنگ ایپ PUBG موبائل پر دہلی کے قریب گریٹر نوئیڈا کے ایک شخص سچن سے آن لائن ملاقات کی۔ انہیں پیار ہو گیا، اور سیما غیر قانونی طور پر نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوئیں۔ وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ گریٹر نوئیڈا پہنچی جہاں سچن رہتا تھا۔ سیما اور سچن کی ملاقات گیمنگ پلیٹ فارم کے ذریعے ہوئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ آن لائن چیٹ کرنا شروع کر دیا، اور بالآخر محبت ہو گئی۔ سیما کے ہندوستان پہنچنے کے بعد، وہ گریٹر نوئیڈا کے ربوپورہ علاقے میں کرائے کے اپارٹمنٹ میں ایک ساتھ رہنے لگے۔

مشہور ویڈیو گیم ’پب جی‘ کے ذریعے انڈین شہری سے دوستی کر کے انڈیا جانے والی پاکستانی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق انڈیا کے شہر گریٹر نوئیڈا میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی خاتون اور اُس کے چار بچوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حکام نے پیر کے روز بتایا کہ پاکستانی خاتون اور اُس کے چار بچے گریٹر نوئیڈا میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ انہیں ایک مقامی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر پناہ دی گئی تھی جس سے اُس پاکستانی خاتون کی آن لائن ویڈیو گیم پب جی کے ذریعے ملاقات ہوئی تھی۔

پولیس نے پاکستانی خاتون کو پناہ دینے والے مقامی شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ گریٹر نوئیڈا کے ڈپٹی پولیس کمشنر سعد میا خان نے بتایا کہ ’پاکستانی خاتون اور مقامی شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خاتون کے چار بچے بھی پولیس کے پاس ہیں۔‘

پاکستانی خاتون جس کی عمر 20 سے 30 کے سال کے درمیان ہے، اُس کی انڈین شہری سے پب جی گیم کے ذریعے دوستی ہوئی۔

ڈپٹی کمشنر کہتے ہیں کہ ’دونوں ملزمان سے ابھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ بقیہ تفصیلات تفتیش کے بعد سامنے لائی جائیں گی۔‘

مقامی پولیس کے اہلکار کے مطابق خاتون مبینہ طور پر نیپال کے راستے سے اپنے بچوں کے ساتھ ریاست اتر پردیش میں داخل ہوئی اور پھر وہاں سے بس کے ذریعے گریٹر نوئیڈا پہنچی۔

اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ ’خاتون اور اُس کے بچے نوئیڈا میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے جو کہ اس مقامی شخص کا تھا۔ وہ شخص گریٹر نوئیڈا کے علاقے ربو پورا میں رہتا ہے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading