محمدتقی 9325610858
آج جس علاقہ کوبرصغیر ہند کہاجاتا ہے وہ بھارت ‘ پاکستان اوربنگلہ دیش پرمشتمل ہے ۔ ہندوستان پر مغل حکمرانوں نے کئی صدیوں تک حکمرانی کی ۔اورنگ زیب عالمگیر ؒ وہ مغل بادشاہ تھا جس نے برصغیر ہند پر بڑے ہی شان وشوکت کےساتھ حکومت کی ۔اُس کی سلطنت موجودہ بھارت میں دکن سے شمالی ہند تک اور ڈھاکہ سے پاکستان ۔افغانستان کی موجودہ سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی اسی لئے اورنگ زیب عالمگیر ؒ کے دور کو زرین دور کے نام سے یاد کیاجاتا ہے ۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے انتقال کے بعد ان کے فرزندوں نے مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی لیکن یہ سب نا اہل حکمراں ثابت ہوئے ۔اس طرح ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کمزور پڑتی چلی گئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے یہاں بڑی چالاکی اورسیاسی حکمت عملی سے اپنے قدم جمانے شروع کئے ۔
1857ءمیں ہندوستان کے مسلمانوں اورہندووں کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کوانگریزوں نے پوری طرح کچل دیا ۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کوقید کرکے رنگون جیل کی کال کوٹھری میں قید کرلیا گیا ۔ اس کے بعد انگریزوں نے مسلم باغیوں کوچُن چُن کرپھانسی کے پھندوں پر لٹکایا ۔اُن کا مال و اسباب لوٹ لیا ۔ مسلمان خواتین اپنی عزت و ناموس کو بچانے کےلئے درد ر بھٹکتی رہیں۔مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد برصغیر ہند کے مسلمانوں پر انگریزوں کی جانب سے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے کا یہ پہلا موقع تھا ۔ مسلمانوں نے ان ابتر حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا اپنے دین اور خدا کی رسی کو کبھی نہیں چھوڑا ۔ 1857ءمیں پہلی بار ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کاآغازہوا ۔
انگریزوں کے خلاف ہندوستان کے مسلمانوں ‘ہندوﺅں سکھوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں نے متحد طور پر آزادی کی لڑائی لڑی ۔اور جب 15 اگست 1947ءکو ہندوستان آزاد ہوا تو اس آزادی کے ساتھ ہی ہندوستان دو ملکوں میں تقسیم ہوگیا ۔ اس طرح دنیا کے نقشہ پر بھارت ۔پاکستان دو نئے ملک وجود میں آئے ۔ موجودہ بنگلہ دیش اس وقت مشرقی پاکستان کے نام سے پاکستان میںشامل تھا ۔ پاکستان دو قومی نظرےے کی بنیاد پربناتھاجبکہ بھارت جمہوری ‘سیکولر اور خود مختار ملک کے طور پر وجود میں آیا ۔
بھارت ریاست کا کوئی مذہب طئے نہیں پایا ۔ جبکہ پاکستان اسلامی جمہوریہ کہلایا ۔ یہی دو قومی نظریہ نے آزادی کے ساتھ ہی بھارت اور پاکستان میں ہندو مسلم ‘سکھ ۔مسلم فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے ۔ہزاروں مسلمانوں اور ہندوﺅں کو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ کے نذر ہونا پڑا۔ فسادات کی آگ ٹھنڈی ہوئی تو بھارت کے مسلمانوں نے اطمینان کاسانس لیا اوربچے کُچے مال و اسباب کے ساتھ زندگی کی نئی صبح کی تکمیل خواہش کےلئے شب و روز کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے ۔ اس کے بعد آزادی ہند کے دوسرے سال ہی ستمبر 1948ء میں حیدرآباد دکن کے مسلمانوں کو تکلیف دہ سانحہ سے گزرنا پڑا ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست حیدر آبادکو بھارت میں ضم کرلیاگیا۔ بھارت کی فوج نے مقامی فرقہ پرست ہندوﺅں کے اشتراک سے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے ۔ ہزاروں مسلمانوں کوگاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا ۔ افسوس کہ حیدرآباد( دکن) پر فوج کشی کو پولس ایکشن کانام دیا گیا ۔سقوط ریاست حیدر آباد کے بعد دکن کا مسلمان خوفزدہ تھا کیونکہ اس پرعرصہ حیات تنگ کردیا گیا تھا ۔ لیکن اسکے باوجود بھی اُس نے مسلسل جدوجہد سے اپنے آپ کو دوبارہ کھڑا کیا اور وہ ملک کے قومی دھارے میں شامل ہوا ۔ ان تمام تاریخی حقائق‘ آنکھوں دیکھے حالات اور واقعات کو یہاں بیان کرنے کامقصد محض یہی ہے کہ برصغیر ہند جس میں دکن بھی شامل ہے کے مسلمان کو اب ضربِ مسلسل برداشت کرنے کی عادت ہوگئی ہے ۔
اس کے باوجود اس میں اتنا حوصلہ ہے کہ اس کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور حکومتی فیصلوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے ۔ اور وہ کررہا ہے ۔ ظلم وبربریت کی آندھی بھی اسکے ایمان و حوصلے کی شمع کو گُل نہیں کرسکی ہے۔
سر پر ہواے ظلم چلے سوجتن کے ساتھ
اپنی کُلاہ کج ہے اُسی بانکپن کے ساتھ
آج ایک بار پھرسیکولر بھارت میں مسلمانوں پراُسی طرح عرصئہ حیات تنگ کرنے اور انھیں ملک بدر کرنے جیسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس طرح انگریزوں کی حکمرانی کے خلاف انقلاب کی ناکامی کے بعد 1857ء میں انگریزوں نے حالات پیدا کئے تھے ۔ آر ایس ایس کی کٹھ پتلی مرکز کی بی جے پی حکومت مسلمانوںں کے خلاف ایک کے بعد دیگر ے قوانین منظور کرکے مسلمانوں کے وجود کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔
شہریت ترمیمی ایکٹ(سی ا ے اے)‘این آر سی ‘ این پی آر(قومی آبادی رجسٹر) کا نفاذ صرف اور صرف مسلمانوں کو خوفزدہ کرکے انھیں یا تو ہندو نظریہ کو قبول کرنے پر مجبورکرنا ہے یا پھر انھیں ملک بدر کرنا ہے ۔ لیکن مسلمان ان غیر دستوری قوانین سے نہ خوفزدہ ہے اور نہ ہی ہوگا ۔اس نے نامساعد حالات کامقابلہ کرنے کاعزم مصمم کرلیا ہے ۔ اپنی کمرکس لی ۔بے خوف مسلمان اور اُن کی نڈر خواتین کو ملک بھر میں قائم شاہین باغوں میں مرکزی حکومت کے سیاہ قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلندکرتے ہوئے چوبیسوں گھنٹے دیکھا جارہا ہے۔چاہے کڑاکے کی سردی ہو‘بارش ہویا پھر آئندہ مہینوں سے شروع ہونے والی چلچلاتی دھوپ میں بھی یہ احتجاجی خوانین اپنے موقف سے ذرہ برابر بھی پیچھے ہٹنے والی نہیں ۔ چاہے زعفرانی حکومت اورسنگھ پریوار کی مسلم مخالف بھگوا تنظیمیں نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرلے ۔ جیسا کہ دہلی الیکشن سے قبل دہلی کے شاہین باغ میں ہندو تنظیموں کے ورکرس کے ذریعہ احتجاجیوں پر فائرئنگ کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اٹھنے والی طلباءکی انقلابی تحریک کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کی لاکھ کوششیں کی گئیں اور اب بھی جاری ہیں۔ لیکن شاہین باغ کے شاہینوں نے بھی عزمِ محکم کے ساتھ فیصلہ کرلیا ہے کہ
دیکھ زنداں سے پر ے رنگ چمن ‘جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاﺅں کی زنجیر نہ دیکھ
ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ احتجاج کرنے والوں سے باربار سوال کررہے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کیوں کیاجارہا ہے؟جبکہ اس سے کسی بھی مسلمان یا کسی ہندوستانی شہری کی شہریت ختم نہیں ہوگی ۔اس معمولی سوال کا جواب صرف اتنا ہے کہ سی اے اے دستور ہند کی دفعہ 14 اور دیگر سے ٹکراتا ہے اور اس کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔کیونکہ سی اے اے میں واضح طور پرکہاگیا ہے کہ ہمارے پڑوسی ممالک پاکستان ‘افغانستان اوربنگلہ دیش میں ہندو ‘سکھ ‘ عیسائی ‘جین اور بودھ اقلیتوں پر وہاں کی حکومتیں اس لئے ظلم کررہی ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ چنانچہ ایسے مظلوم غیر مسلم افغانی ‘ پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو بغیر کوئی کاغذ دیکھائے بھارت کی شہریت دی جائے ۔جبکہ بھارت کا دستور مذہب ‘ذات ‘نسل فرقہ اور ر نگ کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ بھیدبھاو کرنے کی مخالفت کرتا ہے ۔تعجب ہے اتنی چھوٹی سی بات ہمارے وزیراعظم اورامیت شاہ سمجھنے سے قاصر ہیں!
ملک میں ہردس سال بعد مردم شماری ہوتی ہے پہلے بھی ہوتی تھی لیکن اس بار مردُم شماری کےلئے جو فارمیٹ Formate تیار کیاگیا ہے ا س میں کچھ سوالات نئے شامل کئے گئے ہیں جو پہلے کبھی بھی نہیں ہواکرتے تھے ۔ قومی آبادی رجسٹر(این پی آر) کی تیاری کا عمل یکم اپریل 2020 سے سارے ملک میں شروع ہورہا ہے ۔ اگر کسی شخص نے این پی آر کے فارم میں اپنی اوراپنے خاندان کی معلومات درج کروادیں تو این آر سی کے عمل کے دوران ان معلومات کی بنیاد پر حکومت کے کارندے آپ سے دستاویزی ثبوت طلب کریں گے اور اگر آپ ثبوت دینے میں ناکام ہوتے ہیں تو قومی رجسٹر برائے شہریان (این آر سی) میں آپ کی شہریت مشکوک قرار دی جائے گی ۔اس کے بعد آپ کاووٹ ڈالنے ‘ ملازمت کرنے ‘کاروبارکرنے ‘ تعلیم حاصل کرنے وغیرہ کاحق سلب کرلیاجائے گا۔ اس کے بعد آپ اپنی شہریت ثابت کرنے کورٹ کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوجائیں گے جونہایت ہی تھکادینے والا اور ذہنی تکلیف دہ عمل ہوگا ۔ان دگرگوں حالات کے مدنظر ہمیں طئے کرنا ہے کہ ہم این پی آر کے سرکاری کارندوں کواپنی اور اپنے خاندان کی کوئی معلومات نہیں دیں گے ۔ احتجاج کا یہ بھی ایک موثر طریقہ ہوگا ۔اس عمل کو عدم تعاون (Non Co-opration) مہم کا نام دیاجاسکتا ہے ۔ اور یہ مہم پوری شدت ‘ تیاری اور سوجھ بوجھ کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے گاندھیائی طریقے سے ہرگلی‘ محلہ ‘ ٹاون ‘ شہر اور ریاست میں روبہ عمل لائی جائے ۔
تِری زندگی اسی سے ‘ تری آبرو اِسی سے
جورہی خودی توشناہی ‘نہ رہی تو روسیاہی
محمدتقی 9325610858
مورخہ:23فروری 2020