لاہور :28 جنوری۔(ایجنسیز)پاکستان کے سانحہ ساہیوال کے مقتولین کی پوسٹمارٹم اور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ میں مزید انکشافات ہوئے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 سالہ منیبہ کوشیشہ نہیں گولی لگی تھی، منیبہ کے دائیں ہاتھ میں سامنے سے گولی لگی اور پار ہوگئی، عمیر کی ران میں گولی لگی اور پار ہوگئی، مقتولہ اریبہ کوقریب سے6 گولیاں ماری گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ ساہیوال کے مقتولین کی پوسٹمارٹم اور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ میں مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ جن کے مطابق 6 سالہ منیبہ کے شیشہ نہیں گولی لگی تھی۔ منیبہ کے دائیں ہاتھ میں سامنے سے گولی لگی اور پار ہو گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمیر کی دائیں ران میں گولی لگی اور آر پار ہوگئی۔ سانحہ ساہیوال کے فائرنگ میں مارے جانے والوں کو 34 کے قریب گولیاں لگیں۔بتایا گیا ہے کہ 13 سال کی اریبہ کو 6 گولیاں لگیں۔ اریبہ کو پشت سے سینے کے دائیں جانب 9 سینٹی میٹر کے ایریا میں 4 گولیاں لگیں۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اریبہ کو بہت قریب سے گولیاں ماری گئی ہیں۔ اریبہ کو6 گولیاں لگنے سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ نبیلہ کو چار گولیاں لگیں ،جن میں ایک گولی سر میں لگی۔ خلیل کو گیارہ گولیاں لگیں جن میں ایک گولی سر میں لگی۔اسی طرح ذیشان کو13گولیاں لگیں جن میں ایک گولی سر میں لگی۔ مزید برآں سانحہ ساہیوال کے گرفتار6 سی ٹی ڈی اہلکاروں کو جیل بھجوا دیا گیا ہے، سی ٹی ڈی اہلکاروں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا ہے، گرفتار اہلکاروں کی اگلے ہفتے شناخت پریڈ بھی کروائی جائے گی۔ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ورثائ کے بیانات قلمبند کرنے کیلئے کل بلا لیا ہے، سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کے ورثائ کو کل بلایا ہے، سینیٹ کی گاڑی سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ورثائ کو لینے جائے گی۔