دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بری خبر جمعہ کے روز سامنے آئی۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی خاص یونٹ ایشیا-پیسفک گروپ نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان ایشیا-پیسفک گروپ (اے پی جی) کے پیمانوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اس پر یہ کارروائی ہوئی۔ اے پی جی کی آخری رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے قانونی اور مالی نظاموں کے لیے 40 پیمانوں میں سے 32 کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیرر فنڈنگ کے خلاف سیکورٹی ترکیبوں کے لیے 11 پیمانوں میں سے 10 کو پورا کرنے میں پاکستان ناکام ثابت ہوا ہے۔ حالانکہ پاکستان نے اس خبر کو پوری طرح سے افواہ قرار دیا ہے۔
Pakistan Finance Ministry: News reports published about Pakistan being black listed by APG(Asia/Pacific Group on Money Laundering) are incorrect and baseless.
— ANI (@ANI) August 23, 2019
ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کی خبروں کو پاکستانی وزارت خارجہ نے غلط قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ افواہ ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اے پی جی نے اسے بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا ہے اور اس طرح کی جو خبریں آ رہی ہیں وہ جھوٹ پر مبنی ہیں۔
بہر حال، پاکستانی وزارت خارجہ کا بیان آنے سے قبل میڈیا ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اکتوبر مہینے میں بلیک لسٹ ہو سکتا ہے کیونکہ ایف اے ٹی ایف کا 27 پوائنٹ ایکشن پلان کی 15 مہینے کی مدت اسی سال اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیرر فنڈنگ معاملہ میں اے پی جی نے دیکھا کہ اسلام آباد کی جانب سے کئی محاذ پر خامیاں ہوئیں۔ ساتھ ہی اس نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنڈنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جا رہی کوششوں میں خامیاں پائیں۔ اے پی جی نے یہ بھی پایا کہ پاکستان کی جانب سے 50 پیمانوں پر اصلاح کے دعووں کو لے کر کوئی حمایت نہیں ملی۔
واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسفک گروپ ایک بین سرکاری تنظیم ہے جو علاقے میں ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھتی ہے۔ اس گروپ میں 41 رکن ممالک ہیں۔ یہ تنظیم یہ یقینی بناتی ہے کہ رکن ممالک منی لانڈرنگ، ٹیرر فنڈنگ اور وسیع تباہی کے اسلحوں کے فروغ پر روک لگانے کے لیے طے بین الاقوامی پیمانوں کو اپنے یہاں اثرانداز طریقے سے نافذ کریں۔
قابل ذکر ہے کہ اگر واقعی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر لیا ہے تو پھر پاکستان کو بین الاقوامی اداروں، مثلاً آئی ایم ایف وغیرہ سے قرض و دیگر تنظیمی مدد لینے کے لیے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیرون ملکی سرمایہ کاری میں بھی پاکستان کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں پہلے سے ہی خراب معاشی حالت سے گزر رہے پاکستان کے لیے ی بہت بڑا جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
