پاکستان میں سیلاب کے اب تک نقصانات کا تخمینہ نو سو ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ اب تک 982 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق اگلے چند گھنٹوں میں دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ چار لاکھ کیوسک سے اوپر جانے کا خطرہ ہے جس سے نوشہرہ میں اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔
ادھر حکومت نے چاروں صوبوں میں امدادی کاموں میں مدد کے لیے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہےپاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 982 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے.
حکومتِ پاکستان کی اپیل پر مختلف عالمی اداروں نے متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی فوری امداد کے اعلانات کیے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک ملک کے 110 اضلاع میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہے اور جہاں چھ لاکھ 82 ہزار سے زیادہ مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہیں دیہی علاقوں میں آٹھ لاکھ مویشی بہہ گئے ہیں.
صوبہ بلوچستان سیلاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیںدریائے سوات میں ‘اونچے درجے کے سیلاب’ کی پیشگوئی کرتے ہوئے سوات، دیر لوئر، مالاکنڈ، مہمند، چارسدہ، مردان، نوشہرہ اور پشاور کی ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے
سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے تاہم یہاں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 22 لاکھ سے بھی زیادہ ہےپنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 16 اضلاع اور وہاں کی چار لاکھ 18 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے
خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے
محکمہ موسمیات نے 26 اگست تک سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے