پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا اقتصادی بحران ’بہت سنگین‘ صورت اختیار کر گیا ہے اور اب صرف قرضوں پر انحصار کر کے ملک کو نہیں بچایا جا سکتا۔
عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی کی لہر کو نہ روکا گیا تو پاکستان میں سری لنکا جیسا انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔ منگل کے روز لاہور میں پی ٹی آئی کی طرف سے ملکی معیشت کے حوالے سے جاری کیے جانے والے وائٹ پیپر کے موقع پر منعقدہ ایک بڑے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا کر نئے منصفانہ انتخابات کی طرف بڑھا جائے‘‘۔
تحریک انصاف کی طرف سے وائٹ پیپر جاری
اس تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے اقتصادی ماہرین کی موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے۔
اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان قرضوں پر انحصار کر کے ”زندہ‘‘ نہیں رہ سکتا۔
ان کے مطابق موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے آج ملک کو، جس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، اس میں اگر ملک آئی ایم ایف کی سخت شرائط مانتا ہے تو اس سے عوام کے لئے بہت مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی اور اگر اس راستے پر نہیں جایا جاتا تو پھر ڈیفالٹ کی صورت میں اور بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے بقول یہ ایک حقیقت ہے کہ معیشت کا سیاست سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور دنیا میں وہی ملک ترقی کرتے ہیں، جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے اور کرپشن کو روکا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے آپ کو ”ہر فن مولا سمجھنے والے‘‘ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ان کو کہا کہ آپ احتساب کو بھول جائیں اور ملکی معیشت پر فوکس کریں۔