ٹی-20 عالمی کپ 2024 پربھارت کاقبضہٗ فائنل میں جنوبی افریقہ 7 رنوں سے ہارا

آج ٹی-20 عالمی کپ 2024 کے فائنل مقابلہ میں ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا گیا میچ ایک مثالی فائنل کہا جائے گا جہاں کبھی ہندوستان جیتتا نظر آیا، کبھی جنوبی افریقہ میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا دکھائی دیا، لیکن آخر میں ہندوستانی گیندبازوں نے میچ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس میچ کو ہندوستان نے 7 رنوں سے جیت لیا، اور اس کے ساتھ 13 سال بعد ہندوستان نے عالمی چمپئن بننے میں کامیابی حاصل کی۔ اس فائنل مقابلہ میں جیت نے ایک طرف جہاں وَنڈے عالمی کپ 2023 کے فائنل میں ہندوستانی ٹیم کی شکست کا صدمہ ختم کر دیا، وہیں راہل دراوڑ کو بطور ہیڈ کوچ بہترین الوداعی بھی دی۔

1992 کے ورلڈ کپ کی بارش، 99 میں گبز کا ڈراپ کیچ اور پھر کلوزنر کی ناقابلِ یقین اننگز کے بعد اینل ڈونلڈ کا رن آؤٹ، 2003 میں پھر بارش اور سنہ 2015 کے ورلڈکپ میں گرانٹ ایلیئٹ کی عمدہ اننگز۔یہ وہ تمام ڈراؤنے خواب ہیں جو جنوبی افریقہ کی کرکٹ کی تاریخ کو ’چوکرز‘ کے ٹیگ سے داغ دار کیے ہوئے تھے۔تاریخ اور اس بدنما ٹیگ کا بوجھ اٹھائے جب جنوبی افریقہ کے اوپنرز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنلز کی تاریخ کے سب سے بڑے ہدف کا تعاقب کرنے میدان میں اترے تو ہر وکٹ جنوبی افریقہ کے اسی دردناک ماضی کی یاد دلا رہی تھی۔اور اب اس سلسلے میں برج ٹاؤن کے ڈراؤنے خواب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کو ایک موقع پر چار اوورز میں 26 رنز درکار تھے اور ان کے ہاتھ میں اب بھی چھ وکٹیں تھیں۔دو تجربہ کار بیٹرز ہینرک کلاسن 52 اور ڈیوڈ ملر 15 رنز بنا کر موجود تھے جب انڈیا کے وکٹ کیپر رشبھ پنت نے فزیو کو گراؤنڈ میں بلا کر اپنی گھٹنے کی پٹی تبدیل کروانے کا فیصلہ کیا۔

یہ لمحہ میچ کو سلو کرنے، انڈیا کو اپنا منصوبہ ترتیب دینے اور بیٹرز کا ردھم توڑنے کا باعث بنا اور ہارڈک پانڈیا نے اپنے اوور کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کر لی۔یہاں سے جنوبی افریقہ کی بیٹنگ کو زوال کا شکار ہونا تھا اور ماضی کی دردناک یادیں ایک ایک کر کے واپس آنے لگیں۔ اگلے ہی اوور میں بمرا نے صرف دو رنز دیے اور مارکو جینسن کو بولڈ کر کے انڈیا کی میچ میں واپسی یقینی بنائی۔انڈیا اور جنوبی افریقہ دونوں کے لیے ہی یہ فائنل اس لیے بھی انتہائی اہم تھا کیونکہ جنوبی افریقہ آج تک کسی بھی فارمیٹ کی کرکٹ میں فائنل تک نہیں پہنچا تھا جبکہ انڈیا نے آخری بار ٹی20 ورلڈ کپ کی ٹرافی 2007 میں اٹھائی تھی اور 17 برس کے طویل انتظار کے بعد انڈیا آخر کار ایک بار پھر یہ اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔

باربیڈوس کے برج ٹاؤن میں انڈیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ تو کیا تاہم پاور پلے میں ہی انڈیا کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی لیکن اس کے باوجود اکشر پٹیل اور کوہلی کی شاندا اننگز کی بدولت انڈیا سات وکٹوں کے نقصان پر جنوبی افریقہ کو 177صرف یہی نہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی فائنل میچ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا ہدف ہے۔اننگز کے آغاز میں 23 رنز کے مجموعی سکور پر انڈیا کی تین وکٹیں گر گئیں۔ سب سے پہلے کپتان روہت شرما صرف 9 رن بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد آنے والے رشبھ پنت نے صرف دو گیندیں کھیلیں اور بغیر کوئی رن بنائے کیچ آؤٹ ہوئے۔انڈیا کو تیسرا نقصان اس وقت ہوا جب سوریا کمار یادو بھی صرف تین رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ رنز کا بڑا ہدف دینے میں کامیاب رہا۔

اس کے بعد اوپنر کوہلی اور اکشر پٹیل نے مل کر انڈیا کا سکور 114 رنز تک پہنچایا۔ اس شراکت میں اکشر پٹیل کی جارحانہ اننگز انتہائی اہم تھی لیکن پھر ایک انتہائی اہم موقع پر وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کاک کی عمدہ تھرو کے باعث اکشر پٹیل31 گیندوں پر 47 رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔انڈیا کے پانچویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کوہلی تھے، جو 76 رن بنا کر مارکو جینسن کی گیند پر ہٹ لگاتے ہوئے ربادا کو کیچ دے بیٹھے۔اس کے بعد شوم دوبے نے 16 گیندوں پر 27 بنائے اور انڈین ٹیم کو سہارا دیا تاہم کوہلی کی طرح وہ کیچ آؤٹ ہو بھی کر پویلین لوٹ گئے۔ان کے بعد آنے والے جڈیجہ انڈیا کے سکور میں صرف دو رن کا ہی اضافہ کر سکے اور اننگز کی آخری گیند پر ہٹ لگانے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے۔جنوبی افریقہ کے بولر کیشو مہاراج اور ہینرک نورکیا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

کوہلی کی شاندار اننگز پر سوشل میڈیا پر صارفین ان کی تعریفوں کے پل باندھتے دکھائی دیے۔ ایک صارف نے ان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسی وجہ سے ہم آپ کو کنگ کوہلی کہتے ہیں۔‘صارف فرید خان نے لکھا ’ذرا غور کیجیے کہ کوہلی نے اپنی نصف سنچری کا جشن نہیں منایا کیونکہ ان کی ٹیم کو ان سے زیادہ کی ضرورت تھی۔ وہ وہاں (کریز) پر رہنا اور بڑا سکور بنانا چاہتے ہیں۔‘ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آج کوہلی کا دن ہے۔‘کوہلی کے ایک اور فین نے لکھا ’آخر کار ہم نے اس ورلڈ کپ میں ویرات کی بہترین اننگز دیکھ لی۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading