ٹھیکیداروں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف محاذ: دیہی ترقیات محکمہ کی پالیسیوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا
ممبئی(آفتاب شیخ)
مہاراشٹر اسٹیٹ کنٹریکٹرز فیڈریشن اور اسٹیٹ انجینئرز یونین نے ریاستی حکومت کے دیہی ترقیات محکمہ کی مبینہ غیر منصفانہ اور جانبدارانہ پالیسیوں کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست 27 اپریل 2025 کو داخل کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ دانستہ طور پر رجسٹرڈ کھلے ٹھیکیداروں، تعلیم یافتہ بےروزگار انجینئروں اور مزدور کوآپریٹو سوسائٹیوں کو ٹھیکوں سے محروم کر رہا ہے۔
فیڈریشن کے مطابق جولائی 2024 میں بمبئی ہائی کورٹ نے ایک مقدمے میں ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا کہ 100 کروڑ روپے سے کم لاگت کے ترقیاتی کام گرام پنچایتوں کو نہ دیے جائیں۔ اس فیصلے کے بعد 14 اگست 2024 کو دیہی ترقیات محکمہ نے باقاعدہ سرکولر جاری کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے جو کہ عدالتی فیصلے کے برخلاف قدم ہے۔
تنظیم کا الزام ہے کہ حکومت نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی مفاد کے لیے گرام پنچایتوں کو غیر قانونی طریقے سے کام دیے ہیں، جس کے سبب رجسٹرڈ کھلے ٹھیکیدار، تعلیم یافتہ انجینئر اور مزدور تنظیمیں گذشتہ کئی برسوں سے بے روزگاری اور فاقہ کشی کا شکار ہو چکی ہیں۔
فیڈریشن کا مزید کہنا ہے کہ ای-ٹینڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کر کے کئی عوامی نمائندوں نے اپنے ہی بچوں کو مالی فائدہ پہنچایا ہے، جبکہ اصل اہل ٹھیکیدار کام سے محروم ہیں۔ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ سے فنڈز کی اجرائی بھی پچھلے ایک سال سے التواء کا شکار ہے، اور ضلع پریشد کے کام غیر قانونی طور پر گرام پنچایتوں کو سونپے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں انجینئر ملند بھوسلے (صدر)، سنیل ناگرالے (جنرل سیکریٹری)، سریش کڈوپاٹل، سنجے مین اور دیگر ریاستی عہدیداران نے میڈیا کو مطلع کیا کہ جلد ہی مزید قانونی کارروائیاں کی جائیں گی، اور دہلی سپریم کورٹ میں بھی نئی عرضیاں داخل کی جائیں گی تاکہ ٹھیکیدار برادری کو انصاف مل سکے۔