لندن کے ایسیکس علاقے میں ایک لاری کنٹینر سے 39 لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں افرا تفری کا ماحول ہے۔ لاش ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولس نے فوراً ایمبولنس کو بلایا اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاری کنٹینر کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔
39 bodies were found in a lorry container in Essex. The lorry driver has been arrested: UK media
— ANI (@ANI) October 23, 2019
پولس کا کہنا ہے کہ لاری کنٹینر بلغاریہ سے آیا تھا اور وہ ہفتہ کے روز ہولی ہیڈ کے ذریعہ ملک میں داخل ہوا تھا۔ ایسیکس پولس نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی لاش برآمد ہونا واقعی غمناک ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ان لاشوں میں 38 لاشیں بالغ افراد کی ہیں جب کہ ایک نابالغ بچے کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔
ایک پولس افسر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم متاثرین کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک طویل عمل ہو سکتا ہے۔‘‘ ملک کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس واقعہ کے تعلق سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’میں وزارت داخلہ اور ایسیکس پولس کے ساتھ لگاتار رابطہ میں رہوں گا اور ہم یہ پتہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ قاتل کون ہے۔‘‘
I’m appalled by this tragic incident in Essex. I am receiving regular updates and the Home Office will work closely with Essex Police as we establish exactly what has happened. My thoughts are with all those who lost their lives & their loved ones.
— Boris Johnson (@BorisJohnson) October 23, 2019
برطانیہ کے وزیر داخلہ اور ایسیکس سے رکن پارلیمنٹ پریتی پٹیل نے کہا کہ ’’اس افسوسناک حادثہ کو لے کر میں صدمے میں ہوں۔ پولس کو جانچ آگے بڑھانے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اس طرح کا واقعہ سال 2000 میں پیش آیا تھا۔ اس وقت بھی لوگوں کے ہوش اڑ گئے تھے۔ دراصل جون 2000 میں انگلینڈ کے ڈوور میں ایک ٹرک سے 58 چینی باشندوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اس معاملے میں ٹرک ڈرائیور کو ان لوگوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
