بھوپال: مدھیہ پردیش کے وياپم گھپلہ سے متعلق معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے خصوصی جج نے امتحان دینے والے دو امیدواروں کو قصوروار پائے جانے پر سات سات سال کی قید سنائی، حالانکہ اس وقت کے وياپم کے تین ملازمین کو ثبوت کے فقدان کے سبب رہاکردیا گیا۔
خصوصی جج اجے شریواستو نے کل مذکورہ دو امیدواروں راکیش اور ترون کو سزا سنائی۔ عدالت نے سی بی آئی کی اس بات کے لئے سرزنش کی ہے کہ ثبوت کے فقدان کے سبب وياپم کے اس وقت کے ملازمین رہا ہوگئے۔ عدالت نے کہا کہ وياپم میں خفیہ جگہ پر رکھی او ایم آر شیٹ ملازمین کے تعاون کے بغیر باہر کیسے جا سکتی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سی بی آئی نے معاملے کی سنجیدگی سے جانچ نہیں کی ہے۔
استغاثہ کے مطابق وياپم کی جانب سے سال 2013 میں محکمہ پولیس کے لئے ایل ڈی سی اور اسٹینوگرافرکے امتحان کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں جون 2013 میں ایم پی نگر تھانہ میں رپورٹ درج کرائی گئی رپورٹ رپورٹ کے مطابق جون کے مہینے میں ہی مقامی کالج میں ایل ڈی سی اور اسٹینوگرافر کاامتحان منعقد کیا گیا تھا۔امتحان کے بعد او ایم آر شیٹ غائب تھیں ۔ یہ شیٹ راکیش اور ترون نامی امیدواروں کی تھیں۔
اس معاملے کی جانچ پولیس نے کی اور دونوں امیدواروں کے علاوہ وياپم کے ملازم خفیہ برانچ میں تعینات رتیش کوٹھے اور شنکر سونی اور ایک سیکورٹی اہکار آشیش ورما کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ بعد میں معاملے کی جانچ سی بی آئی نے کی اور اس نے پانچوں ملزمین کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کی لیکن ثبوتوں کے فقدان میں تینوں ملازمین بری ہو گئے۔ دونوں امیدواروں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
