از:محمدتقی(اعزازی مدیرروزنامہ ”ورق تازہ“ناندیڑ).9325619858
مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت بڑاسیاسی بھونچال آیا تھا جب اپریل۔ مئی 2019 کے عام لوک سبھا انتخابات میں قدیم نام نہاد سیکولر پارٹیوں کانگریس اور نیشلسٹ کانگریس پارٹی کے 90 فیصد امیدواروں کو دھول چاٹنی پڑی تھی ۔ریاست کے 48 حلقوں میں کانگریس کا صر ایک اور راشٹروادی کے 4امیدوار منتخب ہوئے تھے ۔سیاسی حلقوں میں ان نتائج کے لئے نئی نویلی سیاسی پارٹی ونچت بہوجن اگھاڑی جس کو ایم آئی ایم کی تائید حاصل تھی کو ذمہ دار ٹھہرایاجانے لگا ۔ اسی کے ساتھ ونچت بہوجن اگھاڑی(VBA) جس کی قیادت‘بھارت رتن ڈاکٹرباباصاحب امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر کررہے ہیں کو مستحکم نئی سیاسی زندگی بھی مل گئی تھی ۔ اورا نھوں نے اعلان کردیاتھا کہ ریاستی اسمبلی چناو میں وی بی اے تمام 288 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی ۔ اس اعلان سے جہاں کانگریس اورراشٹروادی کانگریس کے حلقوں میں مایوسی کی لہردوڑگئی تو وہیں زعفرانی پارٹیوں میں لڈو پھوٹنے لگے تھے ۔لڈو کیوں پھوٹنے لگے تھے اس کی سراحت آگے اسی تحریر میں ہوجائے گی ۔
مگر بڑے افسوس سے کہناپڑرہا ہے کہ آج ونچت بہوجن اگھاڑی سیاسی بحران اور کشمکش کے دورسے گزررہی ہے ۔ لوک سبھا الیکشن میں مجلس اتحادالمسلمین(ایم آئی ایم )‘وی بی اے کے ساتھ کاندھے سے کاندھا لگائے میدان کارزار میں تھی ۔ لیکن چار دن قبل اورنگ آباد کے ایم پی اور ایم آئی ایم مہاراشٹر پردیش کے صدر امتیاز جلیل نے جو مسلمانوں اور دلتوں کے ایک گٹھا ووٹوں سے لوک سبھا میں پہونچے ہیں نے اسمبلی سیٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم کے ایشو (issue) پروی بی اے سے طلاق لےنے اور آزادانہ اپنی طاقت پرچناو لڑنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح اس جوڑی کاچھ ماہ پرانا رومانس اختتام پذیرہوا۔ اسے بدشگون ہی کہاجاسکتا ہے کہ سبز ہلالی پرچم والی پارٹی کے اس بدبختانہ فیصلے سے ریاست کے مسلمانوں اور دلتوں میں تشویش و ملال کی لہردوڑگئی ہے ۔ مسلمان اور دلت یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ وی بی اے اور ایم آئی ایم اتحاد انھیں اقتدار میں بڑا نہیں تو بقدر بادام حصہ دلواے گا۔ مگر اب یہ بادام دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہا ہے ۔ دونوں پارٹیاں اپنے امیدواروں کی فہرست تیار کرنے میں مگن ہیں اور ایم آئی ایم نے 10 ستمبر کو اپنی پہلی فہرست جاری کردی ہے جس میں تین حلقوں ناندیڑشمال‘ مالیگاوں اور پونا سے تین امیدواروں کے ناموں کااعلان کردیاہے ۔ مہاراشٹر میں ان دونوں پارٹیوں کے سیاسی مستقبل پرگفتگو کرنے سے قبل یہاں وی بی اے کی مختصرتاریخ پرسرسری نظر ڈالناضروری ہے ۔
ونچت بہوجن اگھاڑی جس کا مقفف ( وی بی اے) ہے کاقیام 20مارچ 2018ءکو پرکاش امبیڈکر جی کی قیادت میں عمل میں آیا تھا۔ پرکاش امبیڈکر صدر اور سیکریٹری جنرل گوپی چند پڈالکر منتخب ہوئے تھے ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ونچت بہوجن اگھاڑی کوسیاسی پارٹی کی حیثیت سے رجسٹرکردیا ہے ۔اس کے بعد اس کے سیاسی جلسے اور میٹنگیں منعقد ہونے لگیں ۔ جلسو ں اور جلوسوں میں بالاصاحب امبیڈکر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیرسٹر اسد الدین اویسی دیکھائی دینے لگے ۔ یہاں بھاریپ بہوجن مہاسنگھ جو اک سیاسی پارٹی تھی کاذکرکرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس کا قیام پرکاش جی کی قیادت میں عمل میں آیاتھا ۔( وی بی اے) کے قیام کے بعد بھاریپ بہوجن مہاسنگھ کوتحلیل کردیاگیااوراس کے سارے لیڈران اورورکرس وی بی اے میںشامل ہوگئے ہیں۔سابقہ لوک سبھا الیکشن سے عین پہلے وی بی اے اورایم آئی ایم میںانتخابی اتحاد ہوا ۔ اس طرح ریاست میں میم اوربھیم“ کااتحادقائم ہوا جو کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کےلئے ایک چیلنج ثابت ہوا ۔ اتحاد نے ریاست کے تمام لوک سبھا حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے لیکن صرف ایم آئی ایم کا ایک امیدوار امتیاز جلیل اورنگ آباد سے کامیاب ہوا ۔ اسکے بعد وی بی اے اور ایم آئی ایم کے حوصلے اور ارادے کافی پختہ ہوگئے ۔ دونوں پارٹیوں نے معاہدہ کیا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ نہیںچھوڑیں گے ۔شاید اساتھ کو کسی کی نذر لگی کہ امتیاز جلیل نے 7 ستمبر کو اورنگ آباد میںا علان کیا کہ ان کی پارٹی وی بی اے سے علاحدہ ہوگئی ہے ۔ یہ خبر ان آرزومند امیدواروں پربجلی بن کر گری جو ونچت اگھاڑی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کےلئے پرتول رہے تھے یاتول رہے ہیں ۔
بہ ظاہرپرکاش امبیڈکر جی کاریاست کی 288 سیٹوں میںسے ایم آئی ایم کو صرف 8 نشستوں کوچھوڑنے کا فیصلہ اتحاد کے ٹوٹنے کی وجہ معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کاخیال ہے کہ یہ فیصلہ شاید امبیڈکر جی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے دباو میںآکر کیا ہے۔زعفرانی پارٹیاں مسلم اور دلت ووٹوں کی تقسیم توچاہتی ہیں مگر انھیں ان پچھڑے سماج کے لوگوں کواقتدار میںسانجھ داری قطعی منظور نہیں ہے ۔زعفرانی پارٹیوں کوخدشہ ہے کہ اگر وی بی اے اور ایم آئی ایم اتحاد قائم رہا تو اسمبلی چناو میں اتحاد کو کچھ نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے ۔
اب صورتحال یہ ہے کہ بالا صاحب امبیڈکر‘امتیازجلیل پر اتحاد کوسبوتاژ کرنے کاالزام عائد کررہے ہیں تو امتیازجلیل کا کہنا یہ ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کے عمل کے دوران ونچت اگھاڑی کاایم آئی ایم اور اس کے قائدین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رہا ہے جو ناقابل برداشت حد تک پہونچ گیاتھا ۔اس کے باوجود دونوں پارٹیوں نے بات چیت کے دروازے پوری طرح سے بند نہیں کئے ہیں ۔ دروازوں کے ساتھ ساتھ تازہ ہوا کے لئے کھڑکیاں بھی کھُلی رکھی گئی ہیں۔لیکن دونوں کو اچھی طرح سمجھ لیناچاہئے کہ
چمن میں اختلاطِ رنگ وبو سے بات بنتی ہے
ہم ہی ہیں تو کیا ہم ہیں ‘تم ہی ہوتو کیا تم ہو