پیارے نریندر مودی جی۔ اگر آپ میری آواز نہیں سنیں گے تو پلیز مجھے سلیبریٹ مت کیجیے۔ متاثر کن خواتین کے بارے میں آپ کے قدم SheInspiresUs # کے تحت مجھے ان خواتین میں شامل کرنے کا شکریہ۔ کئی بار غور کرنے کے بعد میں نے یہ اعزاز ٹھکرانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘وزیرا عظم نریندر مودی کی جانب سے دیے جانے والے اس اعزاز کو ٹھکرانے والی آٹھ سالہ بچی کا نام لسی پریا کُنجُم ہے۔
لسی پریا کُنجُم کا تعلق انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور سے ہے۔ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف آواز بلند کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔انہیں سنہ 2019 میں بچوں کے عالمی امن کے انعام نے نوازا گیا تھا۔
انڈین حکومت کی جانب سے 8 مارچ یعنی انٹرنیشنل ویمینس ڈے کے موقع پر ایسی خواتین کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کو مختلف شعبوں میں غیر معمولی کردار ادا کر رہی ہیں۔

اسی سلسلے میں @mygovindiaٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئیٹ کیا گیا کہ ’لسی پریا کُنجُم ایک ماحولیاتی امور کی کارکن ہیں۔ سال 2019 میں انہیں ڈاکٹر اے پی جے عبد ال کلام چلڈرین ایوارڈ، عالمی امن کا انعام اور انڈیا کے امن کے انعام سے نوازا گیا۔ کیا آپ ان کے جیسی کسی کو جانتی ہیں؟ @SheInspiresUs ہیشٹیگ کے ساتھ ہمیں بتائیے۔‘
انڈین حکومت کی اس ٹوئٹ کے جواب میں لسی پریا نے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ یہ اعزاز قبول نہیں کر سکتی ہیں۔انہون نے اس بارے میں لگاتار کئی ٹوئٹس کیں۔
انہوں نے لکھا کہ ’پیارے رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں، مجھے اس کے لیے تعریف نہیں چاہیے۔ اس کے بجائے اپنے اراکین پارلیمان سے کہیے کہ پارلیمان میں میری آواز اٹھائیں۔ مجھے اپنے سیاسی مفاد اور پروپگینڈا کے لیے کبھی استعمال مت کیجیے گا۔ میں آپ کے حق میں نہیں ہوں۔‘
لسی پریا کے ایسے سخت رویے پر سوشل میڈیا پر مختلف رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ چند افراد ان کے بولڈ جواب کے لیے ان کی تعریف کر رہے ہیں تو چند کا کہنا ہے کہ انہیں گمراہ کیا گیا ہے۔
کچھ لوگ اس بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں کہ یہ ٹوئٹ کیا واقعی انہوں نے ہی کی ہیں؟ کیوں کہ جو باتیں لکھی گئی ہیں، لسی پریا کی عمر اس اعتبار سے بہت کم ہے۔لسی پریا کے اکاؤنٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ ان کا اکاؤنٹ ان کے سرپرست چلاتے ہیں۔
کچھ لوگ لسی پریا کو یہ کہتے ہوئے ٹرول کر ہے ہیں کہ انہوں نے انڈین حکومت کی جانب سے ملنے والے اعزاز کی توہین کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے درمیان لسی پریا نے چند گھنٹے قبل ایک اور ٹوئٹ کی۔انہوں نے لکھا، ’پیارے بھائیوں، بہنوں، میڈم۔ مجھ پر آواز کسنا اور اپنا پروپگینڈا چلانا بند کیجیے۔ میں کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ میں سسٹم میں تبدیلی چاہتی ہوں، ماحولیات میں نہیں۔ میں کسی سے امید نہیں رکھتی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ ہمارے رہنما میری آواز سنیں ۔ مجھے یقین ہے کہ میری جانب سے انعام قبول نہ کیا جانا میری آواز سنے جانے میں میری مدد کرے گا۔‘