سی اے اے مخالف مظاہرین کے پوسٹر لگانے پر پرینکا گاندھی برہم
سی اے اے مخالف مظاہرین کو تشدد کے قصوروار قرار دے کر لکھنؤ کی سڑکوں پر ان کے نام کے پوسٹر لگائے جانے پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یو پی کی بی جے پی حکومت کا رویہ ایسا ہے کہ حکومت کے سربراہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے افسران خود کو بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے گئے آئین سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔‘‘
پرینکا گاندھی نے کہا، ہائی کورٹ نے حکومت کو بتایا ہے کہ آپ آئین سے بالاتر نہیں ہو، آپ کی جوابدہی طے ہوگی۔
यूपी की भाजपा सरकार का रवैया ऐसा है कि सरकार के मुखिया और उनके नक्शे कदम पर चलने वाले अधिकारी खुद को बाबासाहेब अंबेडकर द्वारा बनाए गए संविधान से ऊपर समझने लगे हैं।
उच्च न्यायालय ने सरकार को बताया है कि आप संविधान से ऊपर नहीं हो। आपकी जवाबदेही तय होगी। https://t.co/nQCP5gfKW5
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) March 8, 2020
دہلی تشدد پر لوک سبھا میں بدھ کو ہوگی بحث
نئی دہلی: دہلی کے کچھ حصوں میں گزشتہ دنوں ہونے والے پر تشدد واقعات پر لوک سبھا میں بدھ کو بحث ہوگی۔ لوک سبھا کے ایجنڈا میں بتایا گیا ہے کہ 11 مارچ کو وقفہ سوالات کے بعد پہلے ایوان میں پیش ضروری کاغذات ركھوائے جائیں گے اور اس کے بعد دہلی کے کچھ حصوں میں لا اینڈ آرڈر کی حالیہ صورتحال پر بحث کی جائے گی۔ اس کے سبب ایوان میں اس دن وقفہ صفر نہیں ہو گا۔
گزشتہ پوراہفتہ اپوزیشن نے اس مسئلہ پر بحث کی مانگ کو لے ایوان میں زوردار ہنگامہ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی متاثر ہوتی رہی تھی اور کوئی بحث نہیں ہو سکی تھی۔ ایوان میں ایک بھی دن وقفہ سوالات یا وقفہ صفر بھی نہیں ہوا۔ حکومت نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ ہولی کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس معاملہ میں بات چیت کے لئے تیار ہے۔ اس کے باوجود اپوزیشن فوری بحث اور وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفی کی مانگ کو لے کر اڑا رہا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو