نیپال : عوامی احتجاج کے دوران 13500 قیدی جیلوں کے دروازے توڑ کر فرار

نیپال جہاں پچھلے چند دنوں سے حکومت اور اس کی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کا سخت احتجاج جاری ہے اور وزیر اعظم نیپال کے بارے میں مبینہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں اور دیگر وزیروں کے گھروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان بد امنی کے حالات میں جیلوں میں قید 13500 قیدی جیلوں کے پھاٹک توڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔

جیلوں کے دروازے توڑنے اور قیدیوں کے فرار یونے کی یہ اطلاع نیپالی ہولیس نے بدھ کے روز دی ہے۔پولیس کے مطابق اس عوامی احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ جبکہ کئی زخمی ہیں۔ اس بدامنی کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیلوں سے قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اب صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے نیپال کی فوج گلیوں میں گشت کر رہی ہے۔ خصوصاً دارالحکومت کٹھمنڈو میں پولیس کی جگہ فوج متحرک نظر آرہی ہے۔ تاکہ ‘لاء اینڈ آرڈر’ کی صورتحال کو کنٹرول کر سکے اور پارلیمان کو جلانے کی کی گئی کوششوں کو روک سکے۔نیپال میں جاری اس عوامی احتجاج کی وجہ سے وزیراعظم کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا ہے۔

یاد رہے جنوبی ایشیاء کی ریاستوں میں پچھلے کچھ عرصے سے عوامی احتجاج انتہائی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اس سے پہلے سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی اسی طرح عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو کر حکمرانوں کو اقتدار چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔یہ احتجاج پیر کے روز دارالحکومت کٹھمنڈو سے شروع ہوا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ لوگوں کی معاشی تنگی، حکومتی سسٹم میں کرپشن کا سرایت کر جانا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومت کی طرف سے عوام کی آواز کو دبانے کے لیے لگائی گئی تازہ پابندیاں بنی ہیں۔

نیپال کی فوج نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ ان کی وجہ سے ملک بدامنی اور عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے۔ اس لیے مظاہرین ایسی کسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جو امن کو خراب کرنے والی ہو۔بتایا گیا ہے کہ اب تک درجنوں افراد اس احتجاج کے دوران زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ نیپال مجموعی طور پر 30 ملین آبادی کا ملک ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading