مودی کے گجرات میں ہندو مذہبی تقریب، نوراتری گربا، پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد گجرات پولیس نے 9 مسلم نوجوانوں کو ایک کھمبے سے باندھ کر سرعام ڈنڈوں سے مارا اور سامنے کھڑے ہندوؤں سے معافی منگوائی۔
احمد آباد: ملک بھر میں گربا رقص کی تقریب میں مسلمانوں کے داخل ہونے کے خلاف ہندو تنظیموں کی جانب سے چھیڑی گئی مہم کے درمیان گجرات سے ایک حیران کن ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں سادہ لباس پہنے کچھ افراد کچھ نوجوانوں کو یکے بعد دیگرے بجلی کے کھمبے سے باندھ کر لاٹھیوں سے پیٹ رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کو سرعام لاٹھیوں سے پیٹا جا رہا ہے وہ مسلم طبقہ سے وابستہ ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کھیڑا ضلع میں منعقدہ گربا تقریب کے دوران پتھربازی کی تھی۔ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا اور جیل بھیجنے سے قبل ان کی سر عام پٹائی کی۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی اس طرح سے پٹائی کے معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے اور ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو اس واقعہ میں ملوث تھے۔
گجرات کے کھیڑا ضلع میں پیر کی رات گربا کے دوران پتھراؤ کرنے پر پولیس نے 9 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار ملزمان کو پولیس گاؤں لے کر آئی اور انہوں نے باری باری ان کی خوب پٹائی کی۔ اس کے بعد ہندو برادری کے لوگوں سے ملزمان سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی منگوائی گئی۔
गुजरात के खेड़ा जिले में सोमवार रात गरबा के दौरान पत्थरबाजी के आरोप में पुलिस ने 9 लोगों को हिरासत में लिया है। हिरासत में लिए गए आरोपियों को पुलिस गांव में लेकर आई और उनकी बारी-बारी से जमकर पिटाई की। इसके बाद आरोपियों से हाथ जोड़कर हिंदू समुदाय के लोगों से माफी भी मंगवाई गई। pic.twitter.com/8WqMttI58I
— Ashraf Hussain (@AshrafFem) October 4, 2022
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان افراد کو "عوام سے معافی مانگنے” کے لیے کہا گیا اور علاقے کا انچارج پولیس انسپکٹر بھی موجود تھا۔
ٹویٹر پر، ویڈیو کے جواب میں لوگوں نے پولیس کے "کینگرو جسٹس” پر سوال اٹھایا۔
Everyday there is more evidence of mass radicalisation. Floggings & mob violence by cops have become common. Targeted violence against Muslims is treated as “justice”. This is the reality of Modi’s Vishwaguru/New India/5G/$5 Trillion Ton economy https://t.co/n2rQHy8YOg
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) October 5, 2022
ہندوستانی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اطلاع دی تھی کہ تقریباً 150 لوگوں کے ہجوم نے گزشتہ رات ایک مندر کے احاطے میں گربا کی تقریب پر پتھراؤ کیا تھا اور اس معاملے میں 43 کو نامزد کیا گیا تھا۔
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق گاؤں میں مسلم کمیونٹی کے ارکان نے مندر کے اس پار واقع مسجد کے قریب منعقد ہونے والے گربا پروگرام پر اعتراض کیا۔
ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پکڑے گئے کم از کم چار سے پانچ نوجوانوں کو سادہ لباس میں ملبوس مردوں کا ایک گروپ یکے بعد دیگرے ایک چوک پر بجلی کے کھمبے سے باندھ رہا ہے اور ایک شخص ان پر لاٹھی برسا رہا ہے، جس کی بیلٹ پر بندوق لگی ہوئی ہے۔ جن نوجوانوں کو لاٹھیوں سے پیٹا گیا ہے وہ شور مچاتے ہوئے ہجوم کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اس کے بعد سادہ لباس میں ملبوس مردوں کا گروپ ان نوجوانوں کو نزدیک میں کھڑی پولیس وین میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہیں۔
ماتر تعلقہ کے اندھیلا گاؤں میں جہاں پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا تھا، وہاں کے سرپنچ اندراودن پٹیل نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا ’’پولیس نے 43 میں سے 10 ملزمان کو گرفتار کیا (گربہ میں جھڑپ کے لیے) اور انہیں اسی جگہ پر لا کر سزا دی گئی، جہاں گربا کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جن نوجوانوں پر سرعام لاٹھیاں برسائی گئیں، تاحال ان کی شاخت نہیں ہو پائی ہے، تاہم پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گربا میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے تمام 10 افراد کا تعلق مسلم طبقہ سے ہے۔
پٹیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے گربا کا اہتمام کیا تھا اور ان کا دعویٰ ہے کہ جھڑپ کے دوران ان کے سر پر چوٹیں آئی ہیں۔ آئی جی پی (احمد آباد رینج) وی چندر شیکھر نے کہا ’’ہمیں ابھی تک اس ویڈیو کی اصلیت کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔‘‘ جبکہ کھیڑا ضلع کے ایس پی راجیش گاڈھیا نے کہا کہ وہ مبینہ ویڈیو کا جائزہ لیں گے۔
ویڈیو کلپس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ارکان اسمبلی عمران کھیڈا والا اور غیاث الدین شیخ نے کہا کہ ویڈیو میں ملزمان کو لاٹھی مارتے ہوئے جو افراد نظر آ رہے ہیں وہ پولیس والے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہئے۔ کھیڈا والا اور شیخ نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’پولیس نے ملزمان کو بجلی کے کھمبے سے باندھا اور انہیں لاٹھیوں سے مارا جبکہ عوام نے تالیاں بجائیں۔ قانون ہاتھ میں لینے والے اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔‘‘
مدھیہ گجرات مسلم سماج سیوا سمیتی کے صدر عبدالکریم ملک نے کہا کہ پتھراؤ اس لیے شروع ہوا کیونکہ یہ افواہ پھیل گئی کہ فساد برپا ہو گیا ہے اور جس مقام پر گربا کھیلا جا رہا تھا وہاں سے زوردار چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘‘
ملک نے کہا ’’دونوں طرف سے پتھر بازی کی گئی اور اس کے بعد بڑے پیمانے پر جھڑپ ہونے لگی۔ جب ہم پولیس اسٹیشن میں کراس ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کر رہے تھے، تو ہم نے یہ بھی سنا کہ پولیس نے گرفتار ملزمان میں سے کچھ کو سرعام زد و کوب کیا ہے۔ اگر محکمہ پولیس اس معاملے میں تادیبی کارروائی نہیں کرتا ہے تو ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔‘‘