نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں فائرنگ سے کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دوپہر میں نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔

زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا—فوٹو:اے پی
حکام نے کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کی تصدیق کردی جس کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔

فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور کے تاحال متحرک ہونے کے باعث صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے، ہم اپنے بھرپور صلاحیت کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
نیوزی لینڈ مسجد حملہ:مشفق الرحمٰن » تمیم اقبال» شرینواس بال بال بچے؛ ٹوئٹ کرکے خود کو محفوظ بتایا
اس بارے میں پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد حالات کے پیشِ نظر شہر کے تمام اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔
خبررساں اداروں کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی جسے پولیس حکام کی جانب سے دل دہلا دینی والی قرار دینے کے بعد شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق حملے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
کرکٹ میچ منسوخ
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہونے والی تھی۔
حکام کے مطابق بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم مسجد میں فائرنگ سے محفوظ رہتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
جس کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بورڈ کی جانب سے ٹوئٹ کر کے بتایا گیا کہ کرائسٹ چرچ میں کل ہونے والا ٹیسٹ میچ منسوخ کردیا گیا۔
Our heartfelt condolences go out to the families and friends of those affected by the shocking situation in Christchurch. A joint decision between NZC and the @BCBtigers has been made to cancel the Hagley Oval Test. Again both teams and support staff groups are safe.
— BLACKCAPS (@BLACKCAPS) March 15, 2019
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ٹیم کے کئی ارکان مسجد پہنچ کر اندر داخل ہونے ہی والے تھے کہ فائرنگ کی آواز سن کر نیچے جھک گئے۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹوئٹ کر کے بتایا گیا کہ بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
All members of the Bangladesh Cricket Team in Christchurch, New Zealand are safely back in the hotel following the incident of shooting in the city. The Bangladesh Cricket Board (BCB) is in constant contact with the players and team management.#christchurchMosqueAttack
— Bangladesh Cricket (@BCBtigers) March 15, 2019
ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن
فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ایرڈرن نے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن واقعے میں کئی افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔
عینی شاہدین
وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک بج کر 45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی، نمازِ جمعہ کے سبب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔
حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد نے باہر نکلے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیار پھینک کر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا, فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔
ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ وہ ڈینز ایو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے جب فائرنگ آواز سنی اور جب وہ باہر کی طرف بھاگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ کی لاش فٹ پاتھ پر گری ہوئی ہے۔
ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد لاشیں دیکھیں ہیں۔