
امریکہ اور دیگر ممالک کے مابین شروع ہونے والی تجارتی جنگ کا اثر دیگر ممالک پر بھی پڑنے لگا ہے۔ امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کینیڈا اور میکسیکو نے بھی امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کر دیے۔ اس تجارتی جنگ کا اثر ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بھی دکھائی دیا ہے۔ بھارت کا روپیہ بھی گر کر 87 روپے فی امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ کوریا، ملیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کی کرنسیوں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ پہلی بار 87 کا ہندسہ عبور کر گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں روپے کی قدر میں بڑی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا اندازہ تھا کہ مارچ تک روپیہ 87 تک گر سکتا ہے، لیکن فروری کے تیسرے ہی دن ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر نے نچلی سطح کو چھو لیا ہے۔ جمعہ کو ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 86.61 پر بند ہوا تھا، لیکن آج روپیہ 87 فی ڈالر کھلا اور کاروبار کر رہا ہے۔
روپیہ کی گراوٹ کی وجوہات؟
امریکہ کی بہتر معاشی صورتحال کے باعث امریکی ڈالر مضبوط ہوا ہے۔ بھارت جیسی ابھرتی ہوئی منڈیوں کے مقابلے میں امریکہ کی زیادہ آمدنی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لئے امریکہ پرکشش بن گیا ہے۔ نئی امریکی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی روپے کی گراوٹ کی وجوہات میں شامل ہے۔
ساتھ ہی، عالمی جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے، جس میں روس-یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کے بحران، اور بحیرہ احمر میں شپنگ کے مسائل کی وجہ سے بھی روپیہ گرا ہے۔
روپیہ کی گراوٹ کے اثرات
غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمائیہ بازار سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ کمزور روپیہ کی وجہ سے درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ درآمد کنندگان ڈالر میں ادائیگی کرتے ہیں۔ کھانے کا تیل، دالیں، کھاد، تیل اور گیس کی درآمد کا خرچ بڑھ رہا ہے۔ بھارت کی خام تیل پر درآمدی انحصار تقریباً 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس لیے تیل اور گیس کی درآمد پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔ روپیہ کی قدر میں کمی کا مطلب ہے مہنگی درآمدات، جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔
شیئر بازار میں گراوٹ
بجٹ پیش ہونے کے بعد آج شیئر بازار سے کس طرح کا ردعمل ملے گا، اس پر سب کی نظریں تھیں۔ تاہم، آج شیئر بازار گراوٹ کے ساتھ کھلا۔ نِفٹی 50، بینک نِفٹی، سینسیکس میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ نِفٹی 50 میں 200 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ بینک نِفٹی میں 377 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ سینسیکس میں بھی گراوٹ آئی ہے اور یہ 583 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔