مودی حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کے فیصلہ کو ملک کے عوام پر مسلط کرنے کو آج یعنی 8 نومبر کو پورے 3 سال ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتیں مودی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ جبکہ اس فیصلہ کو ہندوستانی معیشت کے لئے لازمی قرار دینے والی مودی حکومت خاموش ہے۔
نہ تو وزیر اعظم نریندر مودی اور نہ ہی بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوٹ بندی پر کوئی ٹویٹ کیا۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کا بھی نوٹ بندی کے تین سال مکمل ہونے پر کوئی ٹویٹ نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے قائم مقام صدر جے پی نڈا نے بھی تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مودی حکومت اور بی جے پی خاموش ہیں لیکن اس کو مودی حکومت کا تغلقی فرمان بتانے والی کانگریس کے علاوہ ٹی ایم سی، بی ایس پی، ایس پی اور دیگر جماعتیں حکومت پر حملہ بول رہی ہیں۔
کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ نوٹ بندی کے ’دہشت گرد حملے‘ نے ملکی معیشت کو برباد کر دیا۔ اس سے لاکھوں چھوٹے کاروبار تباہ ہوگئے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ نوٹ بندی نے متعدد لوگوں کی جان بھی لے لی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے حملے کے ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہئے۔
It’s 3 yrs since the Demonetisation terror attack that devastated the Indian economy, taking many lives, wiping out lakhs of small businesses & leaving millions of Indians unemployed.
Those behind this vicious attack have yet to be brought to justice. #DeMonetisationDisaster pic.twitter.com/NdzIeHOCqL
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) November 8, 2019
کانگریس کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت نے نوٹ بندی کو ہر مرض کے لئے ایک مشروط دوا بتایا تھا لیکن جتنے بھی دعوے کئے تھے وہ سب ہوا ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی ایک آفت تھی جس نے معیشت کو تباہ کر دیا۔ اس تغلقی قدم کی ذمہ داری اب کون لے گا؟
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی اسے ایک تباہی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں نے پہلے ہی دن کہا تھا کہ اس سے معیشت اور لوگوں کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔ آج ماہرین بھی کے نقصان کا اعتراف کر رہے ہیں۔‘‘
नोटबंदी को तीन साल हो गए। सरकार और इसके नीमहक़ीमों द्वारा किए गए ‘नोटबंदी सारी बीमारियों का शर्तिया इलाज’ के सारे दावे एक-एक करके धराशायी हो गए।
नोटबंदी एक आपदा थी जिसने हमारी अर्थव्यवस्था नष्ट कर दी। इस ‘तुग़लकी’ कदम की जिम्मेदारी अब कौन लेगा?#3YrsOfDeMoDisaster
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) November 8, 2019
دریں اثنا، بی ایس پی صدر مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے بغیر کسی تیاری کے جلدبازی اور غیر پختہ انداز میں جو نوٹ بندی نافذ کی اس کا اثر پچھلے 3 سالوں میں عوام کو مختلف شکلوں میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور خراب معاشی نظام اسی کی دین ہیں، صورتحال پر عوام کی پینی نظر ہے۔
ادھر، کانگریس کارکنوں نے قومی راجدھانی دہلی میں یوتھ کانگریس کے صدر شری نواس بی وی کی قیادت میں ریزرو بینک کے سامنے دھرنا اورمظاہرہ کیا اور کہا کہ مودی کا یہ ’دہشت گردانہ‘ فیصلہ تھا اوران کے اس ’تغلقی فرمان‘ سے ملک کو زبردست نقصان ہوا اور کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی کو کم سے کم ان لوگوں کے اہل خانہ سے معافی مانگنی چاہئے جنہوں نے اس فرمان کی وجہ اپنے لوگوں کو کھویا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کارکنان پورے ملک میں اس فیصلے کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ یوتھ کانگریس کے کارکنان ریاستوں کی راجدھانیوں اور جن شہروں میں ریزرو بینک کی شاخیں ہیں وہاں بھی مظاہرہ کررہے ہیں۔





یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
