نظم: رگوں میں خون نہیں، آتش سیال دوڑتا ہے… ام ماریہ حق

ایک انہونے پت جھڑ نے

خوش نما شاخوں پر ڈیرا ڈالا ہے

ہر سمت

حدِ نظر

ملگیجا سا اجالا ہے

دلوں پر ہمارے

گزرتا ہر پل

ہے ہجر کی رات سے بھی بھاری

اسی لئے تو یہاں سبھی نے

انقلاب کی مشعل تھامی

کہ اب رگوں میں خون نہیں

آتش سیال دوڑتا ہے

جو ہمتوں کے زخمی پرند کو

نئے بال و پر دے رہا ہے

جبر اور ظلمتوں کی

سخت راتوں کو

نئی سحر کی

خبر دے رہا ہے

~ ام ماریہ حق

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading