نریندر مودی نفسیاتی طور پر ختم ہو چکے ہیں: راہل گاندھی

’’اگر کانشی رام جی پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور میں ہوتے تو وہ کانگریس پارٹی سے وزیر اعلیٰ ہوتے۔ وقت آ گیا ہے ہندوستان میں سیاست کو بدلنے کا۔ یعنی سب کی حصہ داری کی سیاست، بہوجنوں کے حقوق کی سیاست، ہندوستانی آئین کی دکھائی ہوئی سیاست۔‘‘ یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آج اتر پردیش کے لکھنؤ میں ’سنویدھان سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

اس موقع پر انھوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کو ملک مخالف اور عوام مخالف ٹھہرایا، ساتھ ہی کہا کہ ’’مہاتما گاندھی جی، بابا صاحب امبیڈکر جی، کانشی رام جی نے کبھی اپنے نظریات سے کمپرومائز نہیں کیا۔ لیکن ساورکر ہو یا نریندر مودی، کمپرومائز کرنا ان کی پرانی عادت رہی ہے۔‘‘اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے ملک کے موجودہ حالات کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ خاص طور سے امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ قرار دیا اور کہا کہ نفسیاتی طور پر نریندر مودی شکست کھا چکے ہیں۔

اپنی تقریر میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’میں آپ کو اسٹیج سے کہہ رہا ہوں، ’سائیکولوجیکلی‘ نریندر مودی ختم ہو گئے ہیں۔ سیاست میں ہار پہلے دماغ میں ہوتی ہے، اس کے بعد ہار ہونی ہی ہونی ہے۔‘‘کانشی رام کو یاد کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آج ہم کانشی رام جی کی جدوجہد، ان کے ویژن اور ہندوستان کی سیاست پر ان کے اثرات کو یاد کرتے ہیں اور دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ہمیں ہندوستان میں تبدیلی لانے والی سیاست کرنی ہے۔ ایسی سیاست کرنی ہے جس سے ہندوستان کے غریبوں، دلتوں، پسماندوں اور قبائلیوں کو ملک کے پاور سیکٹر میں شامل کیا جا سکے۔‘‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading