نتیش راج میں گرلس ہاسٹل غیر محفوظ، مردوں کا کرنا پڑتا ہے مساج، طالبات نے کیا انکشاف

بہار میں جرائم اور بدعنوانی کی خبریں اب کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہیں، لیکن سرکاری اسکولوں کی طالبات نے جو نیا انکشاف کیا ہے وہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ معاملہ بہار کے آرہ کا ہے جہاں سرکاری اسکول کی دو طالبات نے خاتون وارڈن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور کئی طرح کا انکشاف بھی کیا ہے۔ یہاں پڑھنے والی طالبات نے الزام عائد کیا ہے کہ رات میں گرلس ہاسٹل میں مرد آتے ہیں۔ ان کے مطابق وارڈن مردوں کا مساج کرنے کے لیے ان پر دباؤ بناتی ہیں۔ طالبات کے الزام کے بعد علاقے میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور ڈی ایم نے جانچ کے لیے پانچ رکنی ٹیم تیار کر دی ہے۔

’جن ستّا‘ کی خبر کے مطابق بدھ یعنی 3 جولائی کی شب سرکاری اسکول کے ہاسٹل سے دو طالبات بھاگ گئی تھیں۔ لیکن سریا گاؤں کے رہنے والے مقامی لوگوں نے انھیں پکڑ لیا تھا اور پولس کے حوالے کر دیا تھا۔ پولس کے سامنے ان لڑکیوں نے ہاسٹل کی وارڈن گیتا رانی پر الزام عائد کیا تھا کہ وارڈن زبردستی ان سے نجی کام کراتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان سے مساج کرنے کے لیے بھی کہا جاتا تھا۔

طالبات نے بتایا کہ گرلس ہاسٹل میں یہاں کے مقامی مکھیا بھی آتے ہیں۔ اس معاملے پر بہار خاتون کمیشن نے ضلع مجسٹریٹ اور پولس سپرنٹنڈنٹ سے واقعہ پر رپورٹ طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ میں تقریباً 100 طالبات کا داخلہ ہوا تھا۔ وہیں ضلع انتظامیہ نے کہا کہ الزام سامنے آتے ہی تقریباً 80 طالبات کے والدین انھیں ہاسٹل سے لے گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ سال ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس، ممبئی (ٹی آئی ایس ایس) نے اپنے سوشل آڈٹ کی بنیاد پر مظفر پور کے ساہو روڈ واقع شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور استحصال ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ میڈیکل جانچ میں شیلٹر ہوم کی کم از کم 34 بچیوں کے ساتھ عصمت دری کی تصدیق ہوئی تھی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading