ناندیڑ:25ڈسمبر (ور ق تازہ نیوز) جب سے مرکز میں آرایس ایس کی کٹھ پتلی والی بی جے پی زیرقیادت حکومت برسراقتدار آئی ہے سنگھ پریواراوراُس سے منسلک تنظیموں نے ہندوستان کو ہندوراشٹربنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں حالانکہ ایسا ممکن تو نہیںہے کیونکہ ہمارا دستور جمہوری طرزپر تشکیل دیاگیاہے ۔
جہاں پر ہر مذہب کے ماننے والوںکو اُن کے مذہب وعقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا اختیار ہے ۔لیکن پھر بھی ہندو تنظیمیں ملک کے حالات کو خراب کرکے اورہر مرتبہ مسلمانوںکو نشانہ بنانے کے مقصد سے آئے دن بے تُکی باتیں کررہے ہیں۔ آئندہ سال 2019 کے اپریل تا مئی کے درمیان سارے ملک میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ایسے میںپھر ایکبار ہندوو¿ں کو مذہب کے نام پر بیوقوف بناکر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوششیں تیز ترکردی ہیں۔رام مندر کی تعمیر کا نعرہ دے کر عوام کواصل مسائل سے دور کرنے کی گمراہ کن کوشش کی جارہی ہے ۔سنگھ پریوارکی تمام ذیلی تنظیمیں ملک بھر میں سرگرم ہوگئی ہیں۔ حالیہ دنوں ناندیڑ میں رام مندر کی تعمیر کے مطالبہ کو لے کرایک سبھا کاانعقاد کیاگیاتھا جس میں خود بی جے پی او رشیوسینا کے ورکرس نے شرکت نہیں کی او ر یہ سبھا بُری طرح ناکام ہوئی تھی ۔
اس مرتبہ ہندو راشٹر کے قیام کا نعرہ دے کر ہندوو¿ں کو متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے ناندیڑ میں 6جنوری 2019ءکوہندوراشٹرشعوربیداری سبھا کاانعقاد کیاجارہا ہے ۔ ہندو جن جاگرن سمیتی کے زیراہتمام شہر کے نیو مونڈھا میدان پرسبھاکاانعقاد کیاگیا ہے جس کے پوسٹرس شہر بھر میںلگائے گئے ہیں ۔جس میںہندوو¿ں سے اپیل کی گئی کہ وہ ہندو راشٹر کے قیام کیلئے متحدہوجائیں ۔6جنوری کو شام ساڑھے پانچ بجے منعقدہ سبھا کی تیاریاں زور وشور چل رہی ہیں۔جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے ہندوتوا تنظیموں نے ملک کے حالات کو بگاڑنے اور مذہب کی بنیاد پر ووٹرس کو تقسیم کرنے کی سازشیں تیز کردی ہیں۔چند ماہ سے رام مندر ۔بابری مسجد تنازعہ پر حکومت کے وزراءکھول کربات کررہے ہیں۔مندر بنانے کاکھلے عام اعلان کیاجارہا ہے۔سپریم کورٹ کی توہین کی جارہی ہے ۔ایک طرح سے وہ سب ملک کے حالات کو بگاڑنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں تاکہ اسکا فائدہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو ہوسکے اور وہ بہ آسانی دوبارہ اقتدار حاصل کرلے ۔