ناندیڑ: فرحانہ بی خودکشی معاملہ :جہیز و جادو ٹونا مخالف قانون کے تحت درج مقدمہ سے آٹھ ملزمین بری

ناندیڑ:2؍اکتوبر ( ورقِ تازہ نیوز) 2018ء میں ایک شادی شدہ خاتون کی موت کے بعد ہنڈا و کالے جادو قانون کے تحت درج مقدمہ کے آٹھ ملزمین کو اسسٹنٹ سیشن جج آر آر پٹواری نے سرکاری فریق کی جانب سے جرم کو ثابت نہ کیے جانے پر بری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق تامسہ تعلقہ حدگائوں کی ساکن متوفی فرحانہ بی ناصر خان پٹھان ( 26 سال) نے اپنے گھر میں 29 جون 2018ء کو پھانسی لے کر خودکشی کی تھی۔

اس سلسلے میں اس کے بھائی سید لطیف سید پیر ساکن ڈانکی تعلقہ عمرکھیڑ ضلع ایوت محل کی دی گئی شکایت کے مطابق ’’فرحانہ کو شادی کے بعد 2012ء میں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کی وجہہ سے اس کے سسرالی افراد کی جانب سے ذہنی اذیت دی گئی۔ اس کے علاوہ آٹو کیلئے 30 ہزار روپئے اور سینٹرنگ کا سامان خریدنے کے لیے ایک لاکھ روپئے کا مطالبہ کرنے لگے۔

نیز ایک بابا کے ذریعے اس پر جادو ٹونا کیا گیا۔ جس سے دلبرداشتہ ہوکر اس نے خودکشی کرلی۔‘‘ 3 جولائی 2018ء کو درج کی گئی مذکورہ شکایت کے مطابق تامسہ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 306، 498(A)، 323، 504، 506، 34 اور جادو ٹونا مخالف ایکٹ 2013 کی دفعہ 3 اور 4 کے مطابق جرم نمبر 56/2018 درج کیا۔ تامسہ کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سنیل مانے نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے متوفی فرحانہ بی کے شوہر ناصر خان واصل خان پٹھان ( 33 سال)، شیخ محمد علی شیخ وزیر ( 36 سال)، دیگر رشتہ دار شاہ رخ محمد خان پٹھان ( 34 سال)، محمود خان واصم خان پٹھان ( 47 سال)، مشتاق خان واصل خان پٹھان ( 40 سال) اور دو خواتین اس طرح جملہ آٹھ افراد کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ نادنیڑ ضلع عدالت میں یہ مقدمہ نمبر 121/2018 کے مطابق چلا۔ تاہم عدم شواہد کی بنیاد پر ملزمین کے وکیل ایڈوکیٹ انوبھو ڈونگے ( کوپریکر) کے دلائل کو قبول کرتے ہوئے تمام ملزمین کو بری کردیا گیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading