ناندیڑ: 24 اکتوبر ۔(ورق تازہ نیوز)ناندیڑضلع کے 9 ٓاسمبلی حلقوں کی چار نشستوںپر کانگریس پارٹی نے قبضہ کیا ہے ۔ طویل عرصہ کے بعد کانگریس نے ناندیڑحلقہ اسمبلی جنوب کی نشست پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ عین انتخابات کے دوران پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے آخری دو دن قبل کانگریس نے جنوب سے غیر معروف موہن راو ہمبرڈے کو انتخابی میدان میںاتار کرسبھی کوچونکادیاتھا لیکن کانگریس کا یہ فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا اور ہمبرڈے نے پوری طاقت کے ساتھ محض تیرہ دن میں زبردست انتخابی تشہیری مہم چلاکر تاریخ سا ز کامیابی حاصل کی ہے ۔
یہ انتخابات کانگریس کے سابقہ وزیراعلیٰ اشوک راوچوہان کیلئے وقار کا مسئلہ تھے ۔کیونکہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میںانھیں بی جے پی سے کرارری شکست کے بعد اسمبلی انتخابات میں انھیں کامیابی حاصل کرنا انکے سیاسی وجودکیلئے بہت ضروری ہوگئی تھی اسلئے اشوک راو نے بھوکر حلقہ اسمبلی پرپوری توجہ مرکوز کرتے ہوئے آج بی جے پی کے باپوصاحب گورٹھیکر کو تقریبا ایک لاکھ ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے ۔ کانگریس پارٹی کیلئے حلقہ شمال کے نتائج حیران کن وغیر متوقع رہے ۔ کانگریس کےلئے سب سے محفوظ سمجھی جانیوالی حلقہ شمال کی نشست پر اس مرتبہ بھی دو مرتبہ سے رکن اسمبلی منتخب ہورہے ڈی پی ساونت کی کامیابی کو اس مرتبہ بھی آسان سمجھاجارہاتھا لیکن شیوسینا کے بالاجی کلیانکر نے ڈی پی ساونت کوکراری شکست دی ہے ۔ڈی پی ساونت کو کلیانکر نے 12106ووٹوںسے شکست دی ہے۔
ساونت کو کُل 50778ووٹ ملے اور کلیانکر نے 62884 ریکارڈ تعداد میںووٹ حاصل کئے ۔ اسی حلقہ سے مجلس اتحادا لمسلمین کے فیروزخان لالہ نے 41892 ووٹ حاصل کرکے سب کو چونکا دیا ہے ۔ کیونکہ یہ توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ وہ بھی سابقہ کی طرح 30 ہزارسے کم ہی ووٹ حاصل کریں گے لیکن یہاںپر مسلمانوں نے بہ اتفاق آراءمجلس کے حق میں ووٹنگ کی ۔جس کا نقصان ڈی پی ساونت کو پہنچااو ر وہ تیسری مرتبہ منتخب نہیں ہوسکے ۔اسلئے حلقہ شمال کے نتائج سبھی کیلئے غیر متوقع رہے ۔ دیگلور حلقہ اسمبلی سے کانگریس کے راو صاحب انتاپورکر نے شیوسینا کے سبھاش سابنے کو شکست دی ہے ۔ حدگاوںحلقہ میں کانگریس کے مادھوراو جولگاونکر نے شیوسیناکے آشٹی کردھول چٹائی ہے ۔ جبکہ نائیگاوںحلقہ اسمبلی میں کانگریس کے سینئر رکن اسمبلی وسنت راو چوہان کو نوجوان قائد و بی جے پی کے امیدوار راجیش پوار نے بھار ی ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی ہے ۔ مکھیڑ حلقہ میں بی جے پی ڈاکٹرتشارراٹھوڑ نے اپنی نشست پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے کانگریس امیدوار کو شکست دی ۔ لوہا۔قندہارحلقہ اسمبلی سے شیتکری کامگار پارٹی کے امیدوار شیام سندر شند ے نے زبردست کامیابی حاصل کی ۔ انکی کامیابی کےلئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ پاٹل چکھلی کرکی بیٹی اوربیٹا دونوں سخت محنت کررہے تھے ۔ کنوٹ کے نتائج بھی غیرمتوقع رہے
۔یہاںپرشیوسنگرام پارٹی کے و بی جے پی کے تائیدی امیدوار بھیم راوکیرام نے گزشتہ پندرہ سالوں سے کنوٹ میں برسراقتدار پردیپ نائیک کو شکست دی ہے ۔ایسا کہاجارہا ہے کہ ا س مرتبہ کنوٹ ۔ماہور کے مسلم ووٹرس نے بھیم راو کیرام کاساتھ دیا ہے ۔کیونکہ وہ نائیک سے نالاںتھے ۔جس کا خمیازہ نائیک کو اٹھاناپڑا ۔اس طرح ناندیڑ ضلع کی 9اسمبلی نشستوں میں سے چار پر کانگریس نے قبضہ کیا ہے جبکہ دو نشست پربی جے پی ‘ ایک پر شیتکری کامگار پارٹی ‘ایک پر شیوسنگرام پارٹی ‘اور ایک نشست پر شیوسینا نے قبضہ کیا ۔ یہ نتائج ناندیڑضلع میں کانگریس کیلئے کافی حوصلہ افزاءرہے ہیں ۔اس چناو میں ناندیڑضلع میں ایم آئی ایم اور ونچت اگھاڑی کا کوئی جادو نہیں چلا۔کیونکہ دونوں کا اتحاد ختم ہوگیا تھا ۔ ونچت اگھاڑی نے ریاست میں تقریبا تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کئے تھے لیکن اسے ایک نشست پر بھی کامیابی نہیں ملی ۔جبکہ ایم آئی ایم نے دو نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کرکے اپنے وجود کوبرقرار رکھا ۔تمام حلقوں کے امیدواروں کی تفصیلات حسب ذیل ہے۔








