ناندیڑ ضلع کی اہم خبریں

ترجمہ کےلئے اسلم مرزا کوساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
نئی دہلی:26فروری۔(ورق تازہ نیوز)ساہتیہ اکیڈیمی (قومی اکیڈیمی سنستھان) ‘نئی دہلی نے سال 2019ءملک کی مختلف زبانوں کی ادبی کتب کودیگر زبانوں میںترجمہ کرنے کےلئے 23 ایوارڈ کااعلان کیا ہے ۔ اورنگ آباد کے شاعر ‘ادیب ‘ محقق ‘مورخ ‘نقاد اور انشائیہ نگار اسلم مرزا کو مراٹھی نظموں کو اردو میںترجمہ کرنے کےلئے ایوارڈ کےلئے منتخب کیا ہے۔نظموں کااردو ترجمہ مورپنگھ کے عنوان سے شائع ہوا ہے ۔ یہ ایوارڈ50ہزار روپے کی رقم اور مومنٹوں پر مشتمل ہے ۔ یہ ایوارڈ جاریہ سال ایک اعلیٰ سطحی پروگرام میں تفویض کیاجائے گا۔ مورپنگھ کی اردو ترجمہ نظموں کو مہاراشٹر کے ایک مراٹھی شاعر پرشانت اسنارے نے ”میچ ماچھا مور“ ا س عنوان کے تحت شائع کیا ہے ۔ ایوارڈکے منتخب ہونے پر اسلم مرزا کوناندیڑ کے ادیبوں وصحافیوںاور اردو ہمدردان ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی ‘ ایڈوکیٹ محمدبہاءالدین ‘محمدتقی (مدیراعلیٰ ورق تازہ) ‘قاضی محمداطہرالدین ‘ فیرو زرشید ‘عبدالملک نظامی ‘ محمدسہیل احمد صدیقی ودیگر نے مبارکباد پیش کی ہے ۔

اسکولوں کو پانچ دن کاہفتہ نہیں چاہئے
ناندیڑ:26فروری۔(ورق تازہ نیوز)حال ہی میںریاستی حکومت نے حکومت کے ملازمےن کے لئے پانچ دن کاہفتہ کا اعلان کیا ہے ۔اس طرح اب ملازمین کو ہرسنیچر اورہراتوا کو تعطیل رہے گی ۔ا س اعلان کے ساتھ کچھ اساتذہ کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کے لئے پانچ دن کاہفتہ لاگو کیاجائے لیکن ترقی پسند اساتذہ سنگھٹنا نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کےلئے پانچ دن کاہفتہ لاگو نہ کیا جائے ۔ اس وقت اساتذہ کو صرف 76قسم کی تعطیلات دی جاتی ہیں ۔انھیںہرسنیچر کواسکولوں میں کام کرنا پڑتاہے جبکہ گزشتہ احکامات کے تحت ریاست کے سرکاری ملازمین کو ہر دوسرے اور چوتھے سنیچر کوتعطیل دی جاتی تھی ۔ مہاراشٹر کی مہا ویکاس اگھاڑی حکومت نے 29فروری سے سرکاری ملازمین کے لئے ہرسنچر کوتعطیل کااعلان کیا ہے ۔ اسکولوں میں طلباءکو حکومت کی جانب سے دوپہر کاکھانا دیاجاتا ہے اگر اسکولوں کوہرسنیچر کوتعطیل رہی تو سال میں 52دن بچوں کو کھانا نہیں ملے گا۔

ایک ماہ میں ناندیڑمیں 15 ہزار مستحقین نے ”شیوبھوجن“ سے استفادہ اٹھایا
ناندیڑ:26فروری۔(ورق تازہ نیوز)سماج کے غریب اور مستحقین کو سستے میں کھانا فراہم کرنے کے مقصد سے ریاست کی اودھوٹھاکرے حکومت نے شیوبھوجن اسکیم کا آغاز کیا ہے ۔یوم جمہوریہ سے ریاست میں اسکیم پر عمل آوری شروع ہوگئی۔تجربہ کے طور پرضلع کے ہیڈکوارٹر میں کھانے کی سہولت شروع کی گئی ۔ناندیڑشہر میں چار مقامات پر شیوبھوجن تھالی شروع دستیاب ہے ۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران ناندیڑمیں پندرہ ہزارافراد نے شیوبھوجن تھالی سے استفادہ اٹھایا ہے ۔شہر کے وشنوپوری سرکاری میڈیکل کالج کے اسپتال اور سنٹل بس اسٹینڈ ‘ریلوے اسٹیشن اور نیو مونڈھا ان چار مقامات پر 26جنوری سے شیوبھوجن تھالی کاآغاز ہو ا۔صرف دس روپے میں کھانے کی تھالی دستیاب ہے۔

کوئی بھی حکومت ہندوستانی ہونے کے ہمارے حق کو نہیں چھین سکتی:انجلی تائی امبیڈکر
ناندیڑ:26فروری۔(ورق تازہ نیوز) یہ ملک ہمارا ہے‘ہم اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔ ہم ہندوستان کے علاوہ کسی اور ملک کا نام نہیں جانتے۔ لہذا ، کوئی بھی حکومت ہندوستانی ہونے کے ہمارے حق کو نہیں چھین سکتی۔ این آر سی این پی آر اور سی اے اے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے مقام پر ونچت بہوجن اگھاڑی کی رہنما پروفیسر انجلی تائی امبیڈکر نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ شہریت کا قانون نہ صرف اس ملک کی مسلم برادری کے خلاف ہے بلکہ ہندو معاشرے کے بہت سارے عناصربھی اسکاشکار ہوں گے۔ این آر سی این پی آر اور سی اے اے اس وقت ملک میں انتہائی ظالمانہ اور گھناو¿نے قوانین ہیں اور اس کالے قانون نے پورے ملک میں خاموشی اور خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ اگرچہ اس ملک میں بسنے والی مسلم کمیونٹی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ، لیکن اس کے ملک کے پسماندہ ‘ قبائلی ، او بی سی اور تمام بہوجن ہندو معاشرے کے ساتھ ساتھ ہندو سماج پر بھی اس کا بہت زیادہ منفی اثر پڑے گا۔ ملک کے لاکھوں خاندانوں کو دو وقت کے کھانے تک کی رسائی حاصل نہیں ہے۔سرچھپانے کیلئے جھونپڑا نہیں ہے۔ کنبہ کی دیکھ بھال کے لئے لاکھوں خاندانوں کو مسلسل نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ جہاں ان لوگوں کو دو وقت کا کھانا نہیں ملتا ہے۔ایسے لوگ کہاںسے اپنی شہریت کوثابت کیلئے دستاویزات لائیں گے ۔شریمتی امبیڈکر نے مزید کہا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی اس قانون کے خلاف آخر تک جدوجہد کرے گی اورکسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، اور رہیں گے۔ انجلی تائی امبیڈکر نے ناندیڑ کے اپنے دورے کے دوران برکت کمپلیکس کا دورہ کرتے ہوئے مظاہرین سے خطاب کررہی تھی ۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ جنرل سکریٹری شیام کامبلے ، پرشانت انگولے انجینئر ‘وٹھل گائکوئیکوااڑ‘ایوب خان کے علاوہ دیگر کارکنان بھی موجودتھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading