ناندیڑ۔ 26 ستمبر (نامہ نگار): ناندیڑ شہر میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام جاری ہے۔ اقتدار میں تبدیلی آئی ہے مگر شہر کے ترقیاتی کام کوئی نہیں روک سکتا۔ شہر کے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ میں نے ناندیڑ کی عوام کو جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیشہ ہی نبھاتے آیا ہوں اور آگے بھی اپنے عہد پر پابند ہوں۔
اس طرح کا اظہار خیال سابق چیف منسٹر اشوک چوہان کی جانب سے کیا گیا۔ ناندیڑ واگھالہ شہر میونسپل کارپوریشن کی 25 ویں یوم تاسیس یعنی سلور جوبلی سال کے ضمن میں گذشتہ 24 ستمبر کی رات 8 بجے حیدر گارڈن ناندیڑ میں ایک عظیم الشان کل ہند مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مشاعرہ کا آغاز اشوک چوہان نے شمع روشن کر کے کیا۔ افتتاحی تقریب کی صدارت میئر جئے شری نیلیش پاؤڑے نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ایم ایل اے موہن ہمبرڈے، کانگریس کمیٹی کے ضلع صدر گووند ناگیلی کر، میونسپل کمشنر ڈاکٹرسنیل لہانے، ڈاکٹر منیل کھت گاؤنکر و دیگر موجود تھے۔
پروگرام کے آغاز پر بلدیہ حکام اور مشاعرہ کمیٹی میں شامل کارپوریٹرس نے سابق چیف منسٹر اشوک چوہان اور تمام مہمانان کی گلپوشی کر کے ان کا استقبال کیا۔ مشاعرہ کمیٹی کے صدر عبدالغفار نے افتتاحی بیان دیا اور کہا کے ہمارے قائد اشوک چوہان کی قیادت پر بھروسہ کر کے ناندیڑ کی عوام نے پچھلے چناؤ میں کانگریس پارٹی کا بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تھا اور کانگریسی کارپوریٹرس نے اپنے اپنے علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام انجام دیئے ہیں۔ بلدیہ کے 25 ویں یوم تاسیس کے ضمن میں اپریل مئی میں مختلف پروگرام ہوئے تھے رمضان کے سبب مشاعرہ ملتوی ہو چکا تھا اس لیے اسے اب منعقد کیا گیا ہے۔ سابق چیف منسٹر اشوک چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کے بلدیہ عظمیٰ ناندیڑ کی سلور جوبلی تقریب کے سلسلہ میں جو مشاعرہ رکھا گیا ہے اس میں ملک بھر سے نامور شعراء آئے ہیں۔ ناندیڑ میں اردو گھر تعمیر کیا گیا ہے وہاں پر بھی مختلف پروگرامس ہو رہے ہیں۔ جگہ کی کمی کے سبب اس عظیم الشان مشاعرہ کو یہاں پر حیدر گارڈن میں منعقد کیاگیا ہے۔
اشوک چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کے میرا اور آپکا ایک گہرا ناطہ ہے آپ لوگوں نے ہمیشہ ہی محبتوں سے نوازا ہے مستقبل میں بھی میں ہمیشہ ہی آپ کی خدمت کے لیے تیار رہوں گا۔ ناندیڑ میں جو ترقیاتی کام جاری ہے اسے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر اس کوشش کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ناندیڑ کے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رہے گا میں نے آج تک جو بھی وعدے کئے اسے پورا کیا ہوں۔ افتتاحی تقریب کے نظامت کے فرائض کارپوریٹر منتجب الدین نے بخوبی انجام دیے۔ مشاعرہ کے آغاز پر مقامی شاعر محمود علی سحر نے نعت پاک پیش کی او رپھر ڈاکٹر پرکاش نیلانی، عطاء حیدر آبادی، التمش طالب نے اپنا کلام سنایا۔ ملک بھر سے نامور شعراء کرام نے شرکت کی تھی جن میں ڈاکٹر ماجد دیو بندی، محشر آفریدی، معین شاداب، حامد بھساولی، رانا تبسم، قمر اعجاز نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرہ کی نظامت کے فرائض ابرار کاشف نے بہترین انداز میں انجام دیئے۔ مشاعرہ میں حامد بھساولی اور ابرار کاشف کو حاضرین کو بہت زیادہ داد حاصل ہوئی اور ان دونوں نے مشاعرہ کو لوٹ لیا تھا۔
پہلی بار تشریف لائے محشر آفریدی کو بھی لوگوں نے خوب پسند کیا۔ سنجیدہ شاعر ڈاکٹر ماجد دیو بندی اور معین شاداب کے پختہ کلام کو سامعین نے انتہائی سنجیدگی سے سماعت کی۔ رانا تبسم اور قمر اعجاز کے منفرد لہجے کی شاعری کو بھی سامعین نے داد سے نوازا۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر گریش کدم، ڈپٹی کمشنر کھانسوڑے، مشاعرہ کے کورڈی نیٹر و اسسٹنٹ کمشنر غلام محمد صادق کے علاوہ سینئر کارپوریٹرس عبدالستار، مسعود احمد خان، شمیم عبداللہ، فاروق علی خان، عبدالحفیظ باغبان، عبدالرشید، عبدالطیف، سید شیر علی، فاروق حسین بدویل، عبدالفہیم، عبدالعلیم خان، سید شعیب حسین، ڈاکٹر عرشیہ کوثر، حبیب باغبان، پرویز خان، شیخ جاوید چاؤش، چاند پاشاہ قریشی، محمد ناصر، ایڈوکیٹ سید واجد، واجد انور جاگیردار ان لوگوں نے مشاعرہ کی کامیابی کے لیے کافی محنت کی۔ جبکہ اس مشاعرہ کے انعقاد کے لیے کارپوریٹر منتجب الدین کا سب سے بڑا اہم رول رہا۔ مشاعرہ کے اختتام پر انہوں نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔