ناندیڑ: 13 اکتوبر ۔(ورق تازہ نیوز) سابقہ ریاست حیدرآباد کے آخری حکمراں نے جناح کی پاکستان میں علیحدہ مکمل ریاست دینے کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا ۔ آخری نظام میر عثمان علی خاں بہادر آصف جاہ سابع کے پوتے پرنس میردلشاد علی خاں آصف جاہ نے کہا کہ لندن کے بینک میں ان کے دادا کے زیورات جواہرات اور رقم رکھی گئی تھی اس پر اب پاکستان کو کا کوئی حق نہیں رہا ہے کیونکہ برطانیہ کی عدالت نے 70 سالہ پرانے مقدمہ میں فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا کہ جاری کیا ہے کہ اس دولت پر آخری حکمراں نظام حیدرآباد کے وارثین کا حق ہے ہے ۔
عدالت نے حکومت پاکستان کے اس دعوے کو یکسر مسترد کردیا کہ اس دولت پاکستان کا حق ہے ۔یہ زیورات آج تین سو پچاس کروڑ روپیوں سے زائد مالیت کے ہیں اور وہ لندن جا کر اسے اس کو اپنی تحویل میں لینے والے ہیں اور ساتھ ہی حکومت ہندسے بھی گفتگو کرنے کے لیے وہ تیار ہے ۔ پرنس دلشاد علی خان بہادر نے آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے شریی گوروآنند دیو جی یاتری نواس میں اخباری پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہونے کے بعد اسکی کچھ آزاد ریاستوں کے حکمرانوں اور انکی اولادوں نے ملک کی عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا لیکن نظام شاہی خاندان کی آٹھویں پیڑی کے افراد نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میرمکرم علی خاں بہادر اور آصف جاہ اور میں میر برکت علی خاں بہادر آصف جاہ 948 1 میں سقوط حیدرآباد کے بعد لندن اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے چلے گئے تھے اور انھیں حیدرآباد دکن بھارت کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔پرنس دلشاد نے بتایا کہ وہ بھی ملک کی سیاست سے دلچسپی نہیں رکھتے ہیں اس کے برعکس و سماجی خدمات انجام دینا چاہتے ہیں ۔انہوں نے بتایا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ‘میرے دادا میر عثمان علی خاں آصف جاہ سابع سے دوبارہ ملاقات کے لیے حیدرآباد آئے تھے۔ پہلی بار محمدعلی جناح محل میں ملاقات کے لیے بیٹھے تھے تو میرے دادا نے ان سے اس لیے ملاقات نہیں کی تھی کہ محمد علی جناح کرسی پرپیرپر پیر رکھ کر بیٹھے تھے جب انہوں نے جناح کو اس طرح دیکھا تو واپس لوٹ گئے اور ملاقات سے انکار کردیا۔ بعدازیں لوگوں نے جناح کو بتایا کہ بادشاہ سلامت سے ملاقات کے کچھ آداب ہوتے ہیں اور آپ نے انہیں بالائے طاق رکھ دیا تھا لیکن جب جناح دوسری بار حیدرآباد آئے تو میر عثمان علی خاں بہادر نے ان سے ملاقات کی۔
جناح نے میرے دادا کو پاکستان میں ایک مکمل ریاست حوالے کرنے کا پیش کیا تھا لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ میں دکن کی مٹی میں پیدا ہوا اور اسی مٹی میں مروں گا۔ چنانچہ محمد علی جناح خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے تھے ۔پرنس دلشاد جاہ نے کہا کہ میرے دادا نے کئی مندروں ‘درگاہوں ‘گرودواروں کو عطیہ میں زمینات اور جاگیریں دی تھیں ان سب کا جائز ہ لینے وہ ناندیڑ آئے ہیں ۔ابتدا میں گرودوارہ سچکھنڈ بورڈ کے سیکریٹری رویندرسنگھ بونگئی اور سپرنٹنڈنٹ کے ہاتھوں پرنس دلشادخان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ رویندر بونگی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حضور میر عثمان علی خاں آصف جا ہ سابع نے گرودوارا حضور صاحب کو سات گاو¿ں جاگیر میں دیے تھے ۔
یہ ہم پر ان کا بڑا احسان ہے۔ نظام شاہی خاندان کے کر ٹیکر (care taker)محمد ندیم نے بتایا کہ جب 1959میں بھارت۔ چین جنگ ہوئی تھی تو سابقہ وزیرآعظم پنڈت نہرو نے میرعثمان علی خان سے مالی امداد کی درخواست کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے پانچ ٹن سونا حکومت ہند کو بطور عطیہ دیا تھا ۔اس موقع پر شاہی خاندان کے ایڈوکیٹ ہائیکورٹ سید واجد اللہ اشد نے مراٹھواڑہ میں شاہی خاندان کے زمینات اور جائیداد کی معلومات دیں۔