ناندیڑ: جوا اڈے پرکاروائی 7 ملزمان گرفتار، 2 لاکھ 12 ہزارسے زائد کا مال ضبط

ناندیڑ: ضلع ناندیڑمیں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری خصوصی مہم کے تحت لیمبگاؤں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جوا کے اڈے پر چھاپہ مارا اور سات افراد کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران تقریباً 2 لاکھ 12 ہزار 200 روپے مالیت کا نقد اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔یہ کارروائی 12 جولائی 2026 کو ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کی ہدایت پر انجام دی گئی۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ لیمبگاؤں پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع موضع سوگاؤں کے کھیت میں، سوامی سمرتھ منگل کاریالیہ کے قریب ایک درخت کے نیچے "اندر باہر” نامی جوا کھیلا جا رہا ہے۔

اطلاع کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے پنچوں کی موجودگی میں چھاپہ مارا اور موقع سے جوا کھیلتے ہوئے 7 افراد کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے ملزمان کے قبضے اور جائے وقوعہ سے 9 ہزار 200 روپے نقد، 4 اینڈرائیڈ موبائل فون (تقریباً 23 ہزار روپے)، 3 موٹر سائیکلیں (تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار روپے) اور جوا کھیلنے میں استعمال ہونے والا سامان، بشمول تاش کے پتے، ضبط کر لیے۔ ضبط شدہ سامان کی مجموعی مالیت 2 لاکھ 12 ہزار 200 روپے بتائی گئی ہے۔

گرفتار ملزمان کی شناخت فیروز خان رحیم خان (32)، شیخ امیر شیخ احمد (33)، عمران خان ایوب خان (34)، شیخ محبوب الدین شیخ امیر الدین (42)، باجمیر خان گل میر خان (30)، شیخ افنان شیخ ابراہیم (28) اور شیخ کلیم شیخ سلیم (30) کے طور پر ہوئی ہے۔ تمام ملزمان ناندیڑ کے مل گیٹ علاقے کے رہائشی ہیں۔اس سلسلے میں لیمبگاؤں پولیس اسٹیشن میں جرم نمبر 84/2026 درج کرتے ہوئے مہاراشٹر جواء ممانعت ایکٹ کی دفعہ 12(الف) کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش لیمبگاؤں پولیس کر رہی ہے۔یہ کارروائی پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کی نگرانی میں معاون پولیس انسپکٹر بودھنکر، پولیس سب انسپکٹر سید اور پولیس اہلکار رامن بینواڑ، پرمود مورے، اتل ساتارے، بالاجی تیلنگ اور پردیپ گردنماری نے انجام دی۔

ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں غیر قانونی جوا، مٹکا، تیرٹ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ہو تو فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے غیر قانونی دھندوں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading