عرفان غوث کی ضمانت عرضداشت پر کل ہائی کورٹ میں بحث متوقع: گلزار اعظمی
ممبئی -ناندیڑ :22 جنوری(ورق تازہ نیوز) مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کے مقدمہ کی سماعت تیزی سے جاری ہے ، دفاعی وکلاءکی کوششوں سے ایک قلیل وقفہ میں52 سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج خصوصی این آئی اے عدالت میں کیا جاچکا ہے نیز آج اس معاملے میں ملزم مزمل کے قبضہ سے مبینہ طور پر ضبط کیئے گئے ای میل دستاویزات کا پنچ نامہ کرنے والے اے سی پی (اے ٹی ایس) اورنگ آباد کی گواہی عمل میں آئی جس سے دفاعی وکلاءنے جرح کی ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی ان ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ار شد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے کہا کہ استغاثہ کے مطابق ریاستی انسدا ددہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس )نے ان ملزمین کو 30 اگست 2012ءکو ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے چار ریوالور سمیت دیگر ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کا تھا لیکن اب تک کی سرکاری گواہوںکی گواہی سے ایسا لگتا ہے کہ ان ملزمین کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت جعلی مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ اس معاملے میں گواہی دینے والے بیشتر آزاد گواہ اپنے سابقہ بیانوں سے منحرف ہوچکے ہیں اور پولس والوں کی گواہی بھی مشکوک رہی ہے ۔گلزا ر اعظمی نے مزید کہا کہ قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی سست روی کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت نہیں ہورہی تھی جس کے خلاف ملزم عرفان غوث کی ضمانت عرضداشت ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جسے عدالت نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ وہ نچلی عدالت کو معاملے کی سماعت جلداز جلد مکمل کیئے جانے کے احکامات جاری کررہی ہے اورنچلی عدالت کو چھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گذار جانے کے بعد ملزم عرفان غوث کی ضمانت عرضداشت دوبارہ ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی اور استغاثہ کی سست روی کی شکایت کی گئی جس کے بعد سے ہر ہفتہ دو سرکاری گواہوں کو استغاثہ خصوصی این آئی اے عدالت میں پیش کررہا ہے اور ہائی کورٹ میں خصوصی سرکاری وکیل نے بیان دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں ساٹھ سے ستر گواہوں کو عدالت میں پیش کریگا جس میں سے ۲۵ سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج مکمل ہوچکا ہے ۔ ملزم عرفان غوث کی ضمانت عرضداشت پر کل یعنی کے ۳۲ جنوری کو ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اے ایس گڈکری کے روبرو سماعت ممکن ہے، ضمانت عرضداشت پر بحث کرنے کے لیئے جمعیة علماءنے مشہور کریمنل وکیل مبین سولکر کی خدمات حاصل کی ہیں۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیة علماءنے وکلاءکی ایک ٹیم تیار کی ہے جس میں ایڈوکیٹ عبدالواہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ شروتی ودیہ، ایڈوکیٹ ارشد شیخ و دیگر شامل ہیں۔واضح رہے کہ ان ملزمین کی گرفتاری کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا لیکن بعد میں جب جمعیة علماءناندیڑ سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے ان نوجوانوں کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو معاملے کی تفتیش 2006ءمالیگاﺅں بم دھماکوں کی طرز پر این آئی اے کے سپرد کی گئی ۔استغاثہ کے مطابق ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔اس معاملے میںاے ٹی ایس نے ملزمین محمد مزمل عبدالغفور ، محمد صادق محمد فاروق ، محمد الیاس محمد اکبر ، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر پر آرمس قانون کی دفعات ۳،۵۲ اور یواے پی اے قانون کی دفعات ۰۱،۳۱،۵۱، اور ۶۱ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا فی الوقت ملزمین تلوجہ سینٹرل جیل میں مقید ہیں اور ان کے مقدمہ کی سماعت خصوصی جج ڈی ای کوٹھالیکر کرررہے ہیں ۔