ممبئی: 9 جولائی(ورق تازہ نیوز) دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کو آج اٹھ سالوں کے طویل انتظار کے بعد اس وقت راحت حاصل ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے اسے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اس تعلق سے مزید بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس اندرجیت مہنتی اور جسٹس اے ایم بدر کے روبرو ملز م عرفان محمد غوث کی ضمانت پر گذشتہ ہفتہ بحث عمل میں آئی تھی جس کے بعدعدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائیکورٹ نے ملزم عرفان غوث کو پچاس ہزار روپئے کہ ذاتی مچلکہ پر مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے، اسی درمیان عدالت میں موجود جمعیۃ علماء کے وکیل شاہدندیم نے عدالت سے گذارش کی کہ ملزم گذشتہ آٹھ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے نیز ضمانت کے کاغذات جمع کرنے میں وقت درکار ہے لہذا ملزم کو چار ہفتوں کے لیئے نقد ضمانت پر رہا کیا جائے جسے دو رکنی بینچ نے منظور کرلیا اور اپنے حکم نامہ میں لکھا کہ ملزم کو چار ہفتوں کے اندر ضمانت لینے والے شخص اور اسکے دستاویزات سیشن عدالت میں جمع کرانا ہوگا۔
اس سے قبل سینئر وکیل نے دوران بحث عدالت کو بتایا تھا کہ ہائی کورٹ نے دیڑھ سال قبل ملزم کو ضمانت اس شرط پر نہیں دینے کا حکم دیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلے گی لیکن اب جبکہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے این آئی اے عدالت مقدمہ فیصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اور مستقبل قریب میں مقدمہ فیصل ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ سیشن عدالت میں سماعت روز بہ روز نہیں ہورہی ہے نیز ابتک تقریباً 60 سرکاری گواہوں نے عدالت میں اپنا بیان درج کرایا ہے لیکن ایک بھی سرکاری گواہ نے ملزم کے تعلق سے کوئی بھی قابل اعتراض بات عدالت میں نہیں کہی لہذا ملزم کو فوراً ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
حالانکہ سرکاری وکیل نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ تھاکہ مقدمہ آخری مراحل میں ہے لہذ ا ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کرنا چاہئے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم عرفان غوث کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
ملزم عرفان غوث کو ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کا پروانہ ملنے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مستر ت کا اظہار کیا اور دفاعی وکلاء کو مبارکباد دی کہ انہوں نے ہار نہیں مانی اور ملزم کی ضمانت کے لیئے مسلسل کوشش کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ آخری مراحل میں ہے اور انہیں امید ہیکہ ملزمین کو سیشن عدالت سے انصاف حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہائی کورٹ میں کل 22 پیشی ہوئی جس کے دوران دفاعی وکلاء عدالت کو ملزم کی بے گناہی کے ثبوت بتاتے رہے لیکن سرکاری وکیل وقت طلب کرتے رہا لیکن آج بالآخیر عدالت نے ملزم کے حق میں فیصلہ سناد یا۔
واضح رہے ناندیڈ اسلحہ ضبطی معاملے کا سامنا کررہے ملزمین محمد مزمل عبدالغفور، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد اکرم اور محمد عرفان محمد غوث پر الزام ہیکہ ان کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے۔