ناندیڑ:ڈاکٹر کی لاپرواہی کے باعث خاتون کی موت ‘ رشتہ داروں کا الزام

ناندیڑ:نا ندیڑ:2جون( ورق تازہ نیوز) ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے زچگی کے دوران خاتون کی موت واقع ہوئی۔ یہ الزام لگا کر متوفیہ کے رشتہ داروں نے متعلقہ ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبے کو لے کر خاتون کے رشتہ داروں نے سوموار دوپہر کو بھاگیہ نگر پولیس تھانے کے باہر دھرنا دیا۔ اس موقع پر کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا۔

اس کے بعد موقع پر موجود پولیس افسران نے حالات قابو میں لائے اور مظاہرین کو منتشر کیا۔تفصیلات کے مطابق:آرتی رتند راٹھوڑ نامی خاتون (عمر ۲۹ سال، ساکن تردی) کو زچگی کے لیے ۳۱ مئی کو اسپورٹج اسپتال لایا گیا تھا۔ اسپتال میں علاج کے دوران آرتی کی موت ہو گئی۔

اس پر آرتی کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ اسپتال میں موجود ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ آرتی کو رات ۳ بجے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، اور صبح تقریباً ۵ بجے اس کی موت ہو گئی۔ اس پر رشتہ دار مشتعل ہوگئے اور بڑی تعداد میں (۳۰ سے ۴۰ افراد) نے بھاگیہ نگر پولیس تھانے کے باہر دھرنا دیا۔پولیس انسپکٹر شینڈگے نے مظاہرین سے بات کی اور وضاحت دی کہ خاتون کی موت اسپورٹج اسپتال میں ہوئی اور بعد میں اسے تشخیص کے لیے دوسرے اسپتال لے جایا گیا، جہاں موت کی تصدیق ہوئی۔ دونوں اسپتالوں کی معلومات اور ڈاکٹروں کے بیانات کی روشنی میں واقعے کی تفتیش کی جائے گی۔

شینڈگے نے مزید کہا کہ رشتہ داروں کی جانب سے جو الزام لگایا جا رہا ہے، اس کی بنیاد پر ایک ابتدائی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے، اور اگر طبی غفلت ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس بات پر مطمئن ہو کر رشتہ داروں نے دھرنا ختم کیا۔پولیس انسپکٹر شینڈگے نے کہا کہ پولیس کی تفتیش کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔ اس سلسلے میں پولیس نے معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading