ناندیڑ:14جولائی ( ورقِ تازہ نیوز) گزشتہ 6دنوں سے ناندیڑ ضلع میں ہر طرف بارش کا قہر دیکھنے کو ملا۔ زور دار بارش کی وجہہ سے کئی گاﺅں کا تعلقہ سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ تقریباً ہر گاﺅں میں پانی ہی پانی ہوگیا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری زوردار بارش کا سلسلہ جمعرات کی صبح سے تھم گیا۔ تاہم ندی نالیوں سے بہنے والا گنداپانی راستوں پر آنے کی وجہہ سے ناندیڑ ضلع میں بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ پورا ضلع بارش کی وجہہ سے جل تھل ہوگیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے بارش سے پیدا شدہ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی ہے اورا س میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہی۔
ضلع میں کئی مقامات پر جانور بہہ گئے ہیں، ضلع انتظامیہ نے الرٹ رہتے ہوئے کئی مقامات پر عوامی جانیں ضائع ہونے سے بچانے میں کامیابی حاصل کی۔ ضلع کلکٹر ڈاکٹر وپن اٹنکر نے پہلے دن سے ہی محصول انتظامیہ کو مناسب ہدایات جاری کیں۔ اور ضلع کلکٹر خود بھی وزیر اعلیٰ کے رابطہ میں تھے۔ وزیر اعلیٰ نے بھی ڈاکٹر وپن اٹنکر کو فون پر کئی ہدایات دیتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے ضروری مدد کرنے اور اس کے لیے حکومت کی ہر ممکن مدد کا تیقن دیتے ہوئے ضلع کلکٹر کی ہمت افزائی کی۔ ضلع کلکٹر نے حالات کو دیکھتے ہوئے رات دن مسلسل ضلع کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔
ضلع کے ہر مقام پر محصول انتظامیہ کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اسی طرح ضلع پریشد کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ورشا ٹھاکر نے بھی کئی مقامات کا دورہ کرتے ہوئے مسائل کا جائزہ لے کر خصوصی امداد پہنچانے کی کوشش کی۔ اسی طرح میونسپل کارپوریشن کے کمشنر ڈاکٹر سنیل لہانے، میئر جئے شری پاﺅڑے نے بھی شہر کا جائزہ لے کر انتظامیہ کو مناسب ہدایات دیں۔ اسی طرح خصوصی طور پر فائر بریگیڈ عملہ کے آفیسر رئیس پاشاہ نے بھی راحت رسانی کے لیے کافی کوششیں کیں۔ این ڈی آر ایف کے جوانوں نے بھی ناندیڑ میں کئی شہریان کی جان بچاتے ہوئے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ تاہم پانی ندی نالیوں سے بہنے والے گندے پانی کی وجہہ سے کئی مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔
علاوہ ازیں کئی گاﺅں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے، جسے بحال کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ کو کافی کوششیں کرنی پڑیں گی۔ اس کے لیے ضلع انتظامیہ کو حکومت کی طرف سے وافر امداد کی ضرورت ہے۔ کئی کسانوں کے کھیتوں میں پانی جمع ہوجانے کی وجہہ سے فصلوں کا کافی نقصان ہوا ہے۔ اس کی بھرپائی کے لیے ضلع انتظامیہ کے معرفت پنچنامہ کا کام تیزی سے کیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح شہر میں مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں کھودے گئے گڑھوں میں پانچ جمع ہوگیا ہے۔ ان گڑھوں کی وجہہ سے کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ضلع انتظامیہ کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت کو متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔