ناندیڑ:12مئی( ورق تازہ نیوز)ناندیڑمیونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں تین تاچار دن کے وقفے سےنلوں کو پانی کی سپلائی کی جارہی ہے لیکن یہ پانی انتہائی آلودہ اور گندہ آرہا ہے جس کی وجہ سے شہریان کی صحت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔جو پینے لائق بالکل بھی نہیں ہے۔ پانی کا رنگ بالکل پیلا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ کسی گندی نالی سے یہ پانی نلوں کو سپلائی کیا جارہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے اسی طرح کا گندہ پانی سپلائی ہورہا ہے لیکن کارپوریشن انتظامیہ نے ابھی تک شہریان کو اس تعلق سے کوئی انتباہ نہیں دیا کہ وہ اس گندے پانی کو کس طرح سے پینے لائق بنائیں۔کارپوریشن کی بے حسی و لاپرواہی کے باعث عوام میں کارپوریشن کے تئیں شدید ناراضگی و برہمی پائی جاتی ہے۔ فی الحال موسم گرما جاری ہے جس کی وجہ سے شہریان کو پہلے سے ہی پینے کا پانی ملنے کافی دشواری پیش آ رہی ہے اور کارپوریشن نے بھی تین دن کے وقفے سے شہر میں پانی سپلائی کررہا ہے ایسے میں شہریان کو ایک ایک بوندکفایت شعاری کے ساتھ استعمال کرنا پڑرہا ہے۔
لیکن یہ گندہ اور آلودہ پانی پینے لائق بالکل بھی نہیں ہے ۔اس لئے مجبوراً لوگوں کو باہر کے واٹرفلٹردوکانوںسے خریدکرروزانہ پینے کاپانی منگوانا پڑرہا ہے۔اس طرح روزانہ شہریان کو 50تا100 روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں کیونکہ گرمی کا موسم ہونے سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور دیگر دنوں کے بہ نسبت گرما کے موسم میں پانی زیادہ پیا جاتا ہے اور کارپوریشن کی جانب سے گندہ وآلودہ پانی سپلائی ہونے سے عوام کوواٹرفلٹردوکانوں سے پانی منگوانے میں سے مالی بوجھ کاسامنا کرناپڑرہاہے۔ نلوں کو سپلائی ہونے والے اس گندے پانی کے تعلق سے کارپوریشن حکام نے ابھی تک کوئی ایسی اطلاع نہیں دی کہ عوام اس گندے پانی کو پینے لائق کس طرح بنائیں۔
کارپوریشن کی بے حسی ولاپروائی سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اس تعلق سے سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور سماجی کارکنان کو کارپوریشن سے موثر نمائندگی کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کو صاف و شفاف پانی سپلائی کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ اس گندے پانی کی وجہ سے چھوٹے بچوں اور معمر افراد کو مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ویسے بھی گرما کے موسم میں مختلف بیماریوں کے پھیلنے کاخطرہ رہتا ہے اوراگر ایسا آلودہ پانی پیاجائے تویقینا شہریان مختلف بیماریوں میں کارپوریشن کی مہربانی سے مبتلا ہوجائیں گے۔