ناندیڑ:مودی کے دورِ اقتدار میں فوجیوں کی شہادتوں کے واقعات میں اضافہ: شردپوار

ناندیڑ۔21فروری(ورق تازہ نیوز) : نریندر مودی کی حکومت مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی سرحد پر پڑوسی ملک کے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردانہ حملوں کے سبب فوجیوں کی شہادت کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ اس طرح کا اظہارِ خیال این سی پی کے قومی صدر و سابق مرکزی وزیرِ دفاع شرد پوار نے کیا۔

ناندیڑ شہر کے اندراگاندھی میدان میں کانگریس‘ این سی پی‘ شیتکری کامگار پارٹی‘ آر پی آئی(گوائی) ‘ پی آر پی‘ ان پارٹیوں کی مہا آگھاڑی کا جلسہ عام آج شام منعقد ہوا تھا۔ اس جلسہ میں کانگریس کے ریاستی صدر و سابق چیف منسٹر اشوک چوہان ‘ سابق ڈپٹی چیف منسٹر چھگن بھجبل‘ سابق وزیر و رکن اسمبلی عارف نسیم خان‘ مدھو چوہان‘ ڈی پی ساونت‘ امیتا چوہان‘ فوزیہ خان‘ اپوزیشن لیڈر دھننجے منڈے‘ ایم ایل سی وجاہت مرزا‘ خواجہ بیگ‘ مانک راﺅ ٹھاکرے‘ جوگیندر کباڑے‘ جینت پاٹل‘ پردیپ نائک‘ بسوراج پاٹل‘ دانڈیگاﺅنکر‘ کانگریس کے ضلع صدر ناگیلی کر‘ شہر صدر امرناتھ راجورکر‘ این سی پی کے ضلع صدر گورٹھیکر‘ شہر صدر ڈاکٹر سنیل کدم‘ کمل کشور کدم‘ محمد خان پٹھان‘ بلیغ الدین‘ کانگریس کے قائد لیاقت انصاری‘فاروق علی خان، عبدالستار‘ مسعود احمد خان‘ شمیم عبداللہ،منتجب الدین و دیگر شہ نشین پر موجود تھے۔

This slideshow requires JavaScript.

جلسہ کے آغاز پر پلوامہ کے شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ دو منٹ خاموش ٹھہر کر موم بتیاں روشن کی گئی اور فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام کے افتتاحی خطاب میں کانگریس کے ریاستی صدر اشوک چوہان نے کہا کہ مرکز اور ریاست میں اقتدار میں تبدیلی کا وقت آچکا ہے اسی لئے سکیولر پارٹیوں نے مہا آگھاڑی قائم کی ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناﺅ میں سکیولر ووٹوں کی تقسیم کے سبب صرف 30 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی اقتدار میں آگئی تھی۔ بی جے پی نے جو وعدے کیئے تھے اُس پر ابھی تک عمل آوری نہیں کی ہے۔ حکومت نے سرکاری رقم کا بے جا استعمال اپنی تشہیر کے لئے کیا ہے۔ کسانوں کو قرض معافی کے نام پر دھوکہ دیا گیا۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اشوک چوہان نے شیو سینا پر تنقید کی اور کہا کہ ٹائیگر لاچار ہوچکا ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ممبئی کے قریب سناتن سنستھا کے کارکنان کے مکان سے زندہ بم برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے بعد بھی اُن پر کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوتی ہے۔ نوٹ بندی سے حکومت کو کچھ حاصل نہیں ہوا برعکس ۰۰۱ سے زائد عام لوگوں کی جانیں اُس دوران چلی گئی۔ دہشت گردی میں خاتمہ نہیں ہوا اور نہ ہی نوٹ بندی سے بد عنوانی میں کوئی کمی آئی ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ آج تک کالا دھن بیرونی ممالک سے نہیں لایا گیا۔ ملک کے کچھ تاجر یہاں سے ہی کروڑوں روپیئے لے کر فرار ہوگئے ہیں اور مودی تماش بین بنے بیٹھے ہیں۔ مرکزی حکومت نے رافیل کا گھوٹالہ کیا ہے۔ آج مہاتما گاندھی کے نظریات پر عمل کرنے والی حکومت کی ضرورت ہے مگر مہاتما گاندھی کے قاتل کے نظریات پر عمل کرنے والے اقتدار میں بیٹھے ہیں۔

ودھان پریشد کے اپوزیشن لیڈر دھننجے منڈے نے اپنے خطاب میں نریندر مودی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پلوامہ حملہ کے بعد وزیرِ اعظم مودی بی جے پی صدر امیت شاہ مختلف تقریبوں میں شرکت کررہے ہیں۔ مہاراشٹر میں دورہ پر آنے کے باوجود وزیر اعظم اور چیف منسٹر نے شہید فوجیوں کے گھر کا دورہ تک نہیں کیا۔ اچھے دن کے نعرہ سے لوگ بد ظن آچکے ہیں۔ آج مہنگائی آسماں کو چھو رہی ہے۔ پی آر پی کے جوگیندر کباڑے نے آر ایس ایس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ےہ ملک پر ایک گہن کی طرح لگ چکا ہے۔ مرکز اور ریاست کی حکومت آر ایس ایس کی کٹھ پتلی ہے۔ شیتکری کامگار پارٹی کے جینت پاٹل نے شیو سینا ۔بی جے پی کے اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی پارٹیاں پچھلے چار سال سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے آرہے تھے آج دونوں ہی لاچار نظر آرہے ہیں۔ شیو سینا خود کو بڑا بھائی کہتی تھی مگر آج اتحاد کرکے خود کو چھوٹا محسوس کرلیا ہے۔ سابق وزیر و رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے پلوامہ دہشت گردانہ حملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حملہ سے مرکز کی حکومت کی ناکامی ثابت ہوچکی ہے۔ حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ ۴۱۰۲ءسے قبل اُس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اسمرتی ایرانی نے چوڑیاں روانہ کی تھی اب دہشت گردانہ حملہ پر وہ وزیرِ اعظم مودی کو چوڑیاں کب بھیجنے والی ہے۔ عارف نسیم خان نے کہا کہ کانگریس کے دور میں مہاراشٹر میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیا گیا تھا مگر اس بی جے پی ۔شیوسینا حکومت نے اُسے ختم کردیا۔ آج چناﺅ کے سامنے کچھ پارٹیاں مسلم ووٹوں کی تقسیم کی سازش میں مصروف ہےں۔ ایسے حالات میں ہمیں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے مسلم ۔دلت ووٹوں کی تقسیم کو روکنا ضروری ہے۔ سابق وزیر چھگن بھجبل نے کہا کہ پلوامہ حملہ کے بعد مودی اُتراکھنڈ میں ‘ یوگی کیرالا میں اور امیت شاہ کرناٹک میں جلسوں سے خطاب کررہے تھے۔ کانگریس کے دور میں صرف ۱۷۱ فوجی شہید ہوئے تھے جب کہ مودی کے دور میں اب تک ۱۲۷ فوجی شہید ہوچکے ہیں۔ نوٹ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی مودی نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ چھگن بھجبل نے اپنے طویل خطاب میں اُن پر لگے الزامات کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر سدن کی تعمیر میں کوئی گھوٹالہ پیش نہیں آیا۔ اُن کے خلاف سیاسی انتقام کے سبب کاروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رافیل کا بڑا گھوٹالہ پیش آیا اور اُس سے بڑا گھوٹالہ فصل بیمہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ چھگن بھجبل نے مودی کی نقل اُڑا کر اپنی تقریر میں اُن پر سخت تنقید کی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں نہ قابلِ فراموش ہیں۔ ملک کی تعمیر میں بھی مسلم قائدین کا اہم رول رہا ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ اس فرقہ پرست حکومت کو ہم اقتدار سے بے دخل کریں۔ شرد پوار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اندرا گاندھی نے پاکستان کو جو سبق سکھایا تھا و ہ مودی کبھی نہیں سکھا سکتے۔

پاکستان کے دو تکڑے کرکے بنگلہ دیش بنایا گیا اور ایک جنگ میں پاکستان کو شکست دی گئی۔ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے دور میں دہشت گردوں کے حملوں پر مودی کہتے تھے کہ پاکستان کو لو لیٹر لکھنا بند کرو اور اُس کو اُسی زبان میں جواب دو مگر آج مودی خاموش نظر آرہے ہیں۔ لوک سبھا چناﺅ سے قبل جو بلنددعوی کیئے گئے تھے وہ سب بی جے پی کے جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔ رافیل کا گھوٹالہ کرکے مودی نے اپنے قریبی صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے۔ اس جلسہ عام میں ہزاروں افراد موجود تھے۔ تمام پارٹیوں کے قائدین نے اس موقع پر آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی چناﺅ میں مہا آگھاڑی کے اُمیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اختتام پر کانگریس کے شہر صدر امرناتھ راجورکر نے شکریہ ادا کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading