ناندیڑ:قتل و جان لیوا حملہ کے معاملہ میں تین افراد کو عمر قید

ناندیڑ:7جولائی ( ورقِ تازہ نیوز) گوکل گاﺅں تعلقہ ماہور میں قدیم رنجش کی بناءپر 8افراد کے ایک گروپ کی جانب سے کیے گئے حملہ میں ایک شخص کی موت جبکہ دیگر ایک شخص زخمی ہوگیا تھا۔ اس معاملہ میں تین افراد کو ایڈیشنل سیشن جج اشوک دھامیچا نے عمر قید اور بالترتیب چھ ہزار روپئے نقد جرمانہ کی سزا سنائی۔ تفصیلات کے مطابق گوکل گاﺅں تعلقہ ماہور میں 9ستمبر 2018ءکی شام ساڑھے چار بجے بدھ بھوشن گلاب بھگت، آتش کامڑے، ہرش وردھن منڈل، بھوشن کامڑے، آدرش کامڑے، سنتوش نگراڑے اور کرن بھگت یہ تمام ڈاکٹر امبیڈکر چوک میں گپ شپ کررہے تھے۔ اس وقت وہاں پرتیش وجئے مانکر (27 سال)، ستیش وجئے مانکر (28 سال)، رُپیش وجئے مانکر ( 32 سال)، دیوانند نتھو بھگت (46 سال)، گوتم نتھو بھگت ( 56 سال)، وجئے ایکناتھ مانکر ( 50سال)، کموبائی وجئے مانکر (45)، نرملابائی گوتم بھگت (51 سال)، یہ سب آئے اور قدیم رنجش کی بناءپر انہوں نے سب سے پہلے آنند کیشو بھگت کی آنکھوں میں مرچی کا پاﺅڈر ڈالا اور چاقو سے اُس پر حملہ کردیا۔

اسی طرح اس کے ساتھ بیٹھا ہوا سدانند مکیندا بھگت کو بھی چاقو سے کئی وار کرتے ہوئے شدید زخمی کردیا۔ اس معاملہ کی شکایت کرن آنند بھگت نے پولیس کو دی۔ اس وقت کرن بھگت اور دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ مذکورہ شکایت پر سندکھیڑ پولیس نے جرم نمبر 26/2018 تعزیرات ہند کی دفعہ 302,30 7,120(B),143,147,148,149 اور 323 کے تحت جرم نمبر 89/2018 درج کیا تھا۔ اس معاملہ کی تحقیقات سندھ کھیڑ کے سابق اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر ملہاری شیورکر نے کی۔ ملہاری شیورکر نے اس معاملہ کی باریک بینی سے تحقیقات کرتے ہوئے 8ملزمین کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ ضلع عدالت ناندیڑ میں یہ سیشن مقدمہ نمبر 168/2018 کے مطابق جاری تھا۔ عدالت نے اس معاملہ میں جملہ 12 گواہوں کے بیانات درج کیے۔ اس میں زخمی ہونے والے گواہ سدانند بھگت اور طبی آفیسر کے ثبوت اہم ثابت ہوئے۔ عدالت نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر وجئے مانکر ( 27 سال)، ستیش وجئے مانکر ( 28 سال) ان دو سگے بھائیوں اور دیوانند نتھو بھگت ( 46 سال) تمام ساکنان گوکل گاﺅں تعلقہ ماہور ان تینوں نے آنند کیشو بھگت کو قتل کرنے اور سدانند مکندا بھگت پر جان لیوا حملہ کرنے کے معاملہ میں خاطی قرار دیا۔

جج اشوک دھامیچا نے ان تینوں کو تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت عمر قید اور تینوں کو بالترتیب تین ہزار روپئے نقد جرمانہ ،تعزیرات ہند کی دفعہ 307 کے مطابق دس سال کی سزائے مشقت اور دو ہزار روپئے نقد جرمانہ، انڈین اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 3/25 کے مطابق ایک سال کی سزائے مشقت اور ایک ہزار روپئے نقد جرمانہعائد کیا۔ ان تمام سزاﺅں کو ایک ساتھ بھگتنا پڑے گا۔ اس معاملہ میں سندھ کھیڑ پولیس اسٹیشن کے پولیس آفیسر دلیپ سنگھ ملی بکل نمبر 2071 نے پیروی آفیسر کا کردار بحسن و خوبی پورا کیا۔ اس معاملہ میں دیگر پانچ ملزمین کو بری کردیاگیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading