ناندیڑ:عصری افکار’الفاظ کی بازیگری ‘شاعری میں طنز و مزاح تصانیف کاشاندار اجرا

ڈاکٹر محمدجیلانی ‘اسلم مرزا ‘ڈاکٹرمعظم علی ‘کمال الدین صدیق‘ محمدتقی‘ڈاکٹرفہیم صدیقی کی تقاریر
ناندیڑ:28اکتوبر ۔(ورقِ تازہ نیوز)معروف قانون داں ایڈوکیٹ محمدبہاءالدین کی تصنیف ”عصری افکار“ ور نامور شاعر ونثرنگار پروفیسر یونس فہمی کی دو تصانیف ”الفاظ کی بازیگری اور شاعری میںطنز و مزاح کاشانداراجراءمہمانان خصوصی سرا ج دیشمکھ(سابق ا یم ایل اے ) ‘ اسلم مرزا(اورنگ آبادµ)‘رشیدانجینئر ‘ ( پربھنی) ‘اورڈاکٹرمعظم علی (حیدر آباد) کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ اردواکیڈیمی ناندیڑ کے زیراہتمام 27اکتوبر کودفتر جماعت اسلامی ہند نئی آبادی میںشب نو بجے منعقدہ جلسہ اجراءکی صدارت معزز ڈاکٹر محمد جیلانی (موظف سول سرجن ناندیڑ) نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹرفہیم احمد صدیقی اور قاضی محمد اطہر الدین نے بحسن وخوبی انجام دئےے ۔ ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی نے تمام مہمانوں کاتفصیلی مگر عمدہ تعارف کروایا ۔ بعد ازیں معروف ادیب و افسانہ نگار سید ضیاءالحسن قادری نے پروفیسر یونس فہمی پر خوبصورت اوردلچسپ مضمون پڑھا جسے سامعین نے کافی پسند کیا ۔انھوں نے اپنے مضمون میں یونس فہمی کی شخصیت اورفن پر روشنی ڈالی ۔ انھیں عمدہ شاعر و نثر نگار اور طلباءاکاہمدرد استاد بتایا ۔اُن کے بعد پروفیسر یونس فہمی نے ایڈوکیٹ محمدبہاءالدین کی پہلی تصنیف ”عصری افکار“ پرتنقیدی مضمون پڑھا اسے بھی سامعین نے کافی سراہا انھوں نے ”عصری افکار“ کے مضامین کے بارے میں دو ٹوک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صفحہ قرطاس پر بکھرے ہوئے ذہن و قلم کے یہ نتائج پڑھئے تو محسوس ہوگا کہ محمد بہاءالدین اگرچہ ایک وکیل ہے لیکن وہ قانون کی زلفوں سے کمتر ہی اُلجھتا ہے ۔اس کے برخلاف اُن کے دل کا درد جو قوم و ملت کے تئیں ہے ایک سرمایہ ہے جس کو وہ ملت کے نوجوانوں کے مابین بانٹنا چاہتے ہیں اورخدا سے دُعاکرتے ہیں:
لالہ میں روشن چراغِ آرزو کردے
 چمن کے ذرے ذرے کوشہیدِ جستجو کردے
محمدتقی مدیراعلیٰ ورق تازہ ناندیڑ نے عصری افکار کے حوالے سے محمدبہاءالدین کی شخصیت اور فن سے بحث کی ۔ انھوں نے کہا کہ عصری افکار میںادب ]سیاست ‘قانون ‘وقت‘وقف تعلیم ‘ تاریخ اورادب کے انوکھے موضوعات پر مضمون تحریر کئے گئے ہیں ۔ انھوں نے شاعری کے بجائے نثر کاانتخاب کیا ۔جس کی ستائش اس لئے کی جانی چاہئے کہ آج کل اردو میںشاعری کی کتابیں بہت زیادہ شائع ہورہی ہیں ۔نثر میں لکھنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہے اور کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ ناندیڑ نے بہاءالدین کی صورت میں اردو نثر کوایک بہترین نثر نگار دیا ہے ۔ عصری افکار کے مضامین اسکالروں ‘طلباءاور نوجوانوں کےلئے افادی ہیں ۔ یہ مضامین جس جس دور میں لکھے گئے ہیں ہمیں اُن کے مطالعہ سے اُن ادوار کے مذہبی ثقافتی ]ادبی اور سیاسی حالات کا بخوبی پتہ چلتا ہے ۔ علاوہ ازیں مصنف نے شہر ناندیڑ کی اہم شخصیات پربھی مضامین لکھے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ عالی جناب محمد کمال الدین صدیقی نے اردو اکیڈیمی ناندیڑ کاتعارف اورکارکردگی کاجائزہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اکیڈیمی 1966 میںقائم کی گئی تھی جس سے شہر کی معروف شخصیات وابستہ رہی ہیں۔ اس نے طلباءاورنوجوانوںمیںاردوادب کاذو ق پیدا کرنے میں کلیدی رول انجام دیا ہے ۔ مشاعرے ‘سمینار ‘ ادبی محفلیں منعقد کئے گئے اور شہر میں ادبی ماحول پیدا کیا ۔ اسلم مرزا نے عصری افکار پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں قانون کے موضوع پر جو مضامین ہیں وہ بے حد اہم ہیں ۔ مصنف نے بڑے بے باکانہ انداز میں قوانین کی مختلف دفعات اور شقوں سے بحث کی ہے ۔انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے قانونی حقوق کوحاصل کرنے کے لئے سامنے آئیں ڈر وخوف دل سے نکال دیں ۔اسلم مرزا نے کہا کہ بہاءالدین بالیدہ وپختہ تنقیدی شعور رکھتے ہیں ۔اُن کا خاص وصف یہ ہے کہ موصوف نے دلنشیں طرز نگارش او ر منفرد اسلوب ہے جس نے خشک موضوعات کودلچسپ اور قابل مطالعہ بنادیاہے ۔حیدر آباد سے تشریف لائے مہمان ڈاکٹر محمدمعظم علی نے کہاکہ انھوں نے عصری افکار کا سرسری مطالعہ کیا ہے اس کے باوجود وہ محمدبہا الدین کے طرز نگارش ‘ زبان اور انداز بیان سے بے حد متاثر ہوئے ہیں ۔ اس موقع پر اردواکیڈیمی ‘ادارہ ور ق تازہ“ ادارہ کہکشان ادب او ردیگرانجمنوں اور شخصیات کی جانب سے ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین او رپروفیسر یونس فہمی کی کثرت سے شال پوشی اور گلپوشی کی گئی ۔جلسہ گاہ سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہواتھااور اپنی تنگ دامنی کاشکوہ کررہاتھا ۔ آخر میں سابق ڈپٹی میئر ناندیڑ شفیع احمدقریشی نے تمام مہمانوں کاشکریہ اد ا کیا اوررجلسہ کے اختتام کااعلان کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading