ناندیڑ:6 دسمبر(ورقِ تازہ نیوز)حالیہ ودھان سبھا انتخابات میں ناندیڑ ضلع میں مہا یوتی نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ضلع کے نو حلقہ اسمبلی جات میں سے بی جے پی کو پانچ ‘شیوسینا کو تین اور راشٹروادی کانگرےس کو ایک جگہ پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ریاست میں مہایوتی کی حکومت بھی برسراقتدار آگئی ہے۔ اس لیے ضلع سے کس قائد کو وزارت کی کرسی ملے گی اس پر سبھی کی توجہ مرکوز ہے۔
پانچ دسمبر کو ریاست کے وزیراعلی کے عہدے پر دیوبندر فڑنویس نے حلف لیا ہے جبکہ نائب وزیر اعلی کی حیثیت سے شیوسینا کے ایکناتھ شندے اور راشٹرواد کانگریس کے اجیت پوار نے بھی حلف اٹھایا۔ناندیڑ ضلع میں شٹروادی کا صرف ایک رکن اسمبلی منتخب ہوا ہے۔لوہا قندہارحلقہ اسمبلی پرتاپ پاٹل چکھلی کر منتخب ہوئے ہیں اس لیے انہیں ریاستی کابینہ میں لیے جانے کا امکان ہے کیونکہ ناندیڑضلع میں اگر راشٹروادی پارٹی کو طاقتور بنانا ہے تو انہیں ناندیڑ ضلع میں ایک رکن اسمبلی کو وزرات کی کرسی دینا ضروری ہو گیا ہے۔
جبکہ شو سینا کے تین امیدوار منتخب ہوئے ہیں اور جس کے پس پردہ ہیمنت پاٹل کی کافی محنت رہی ہے ۔ہیمنت بھاﺅ کی ان کوششوں کی وجہ سے ہی انہیں بھی اس مرتبہ لال بتی کی گاڑی ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی سے چار امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جس میں تشار راٹھوڑ(مکھیڑ) کو وزارت کی کرسی دیے جانے کے اشارے مل رہے ہیں
کیونکہ مکھیڑمیں وزیراعلی دیوبندر پھنڈویس نے ڈاکٹر تشار کے جلسے سے خطاب کیا تھا اس لیے وہ طاقتور امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ کنورٹ حلقے سے قبائلی امیدوار بھیم راو¿ کیرم بھی منتخب ہوئے ہیں اس لیے انہیں بھی ایک مرتبہ موقع دیے جانے کا امکان ہے۔ اس لیے ناندیڑ ضلع میں کسی ایک پارٹی کے رکن اسمبلی کو وزارت کی کرسی ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں