ناندیڑ:المیہ جس سے انسانیت سکتے میں آگئی

ظالم کورونا نے 3لاکھ لوگوں کے منہ کانوالہ چھین لیا!

ناندیڑ: 2 مئی (ورق تازہ نیوز)اب ایک ایک کرکے”ظالم کورونا“ کے چہرے پر پڑے نقاب اٹھنے لگے ہیں ۔ مہاراشٹر کے ضلع ناندیڑ میں سچکھنڈ گرودوارہ کے لنگرصاحب کے 20 ملازمین کو کورونا کامرض لاحق ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ کی ہدایت پرگورودوارہ انتظامیہ نے روزانہ لنگر صاحب سے تقریبا تین لاکھ لوگوگوں کوصبح و شام مفت فراہم کئے جانے والے کھانے کو بند کرنے کافیصلہ کیاہے ۔

اس فیصلے پر آج سے عمل شروع ہو چکا ہے۔گویا یہ بدنصیب تین لاکھ لوگ دو وقت کی روٹی سے محروم ہوگئے۔ادھر ان کے سروں پر کورونا کی تلوار موت بن کر لٹک رہی ہے ۔ اس طرح بے رحم ظالم کرونا نے تین لاکھ لوگوگوں کے منہ کا نوالہ چھین لیا ۔ جس کوایک تاریخی المیہ ہی کہاجاسکتا ہے اوراس المیہ کی گونج آئندہ کئی سالوں تک سنائی دیتی رہے گی ۔

اب ضلع کے غریب ‘مفلس اور بے سہارا لوگوں کوآسمان کی طرف دیکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا ہے ۔ جس طرح خدا وندکریم نے کرونا کی صورت میں ساری دنیا پرعذاب مسلسل نازل کیا ہے۔اُسی طرح اسے تین لاکھ افراد کی دو وقت کی روٹی کابھی انتظام کرنا ہوگا ۔یہ بے یار ومددگار غرباءکی دل کی آواز ہے ۔ کورونا کایہ ایک چہرہ ہے ۔

جب ملک میں 24مارچ کو کولاک ڈاون اور کرفیو نافذ کردیاگیاتو اسی کے ساتھ مسافر ریل گاڑیاں ‘ بسیں اورہوائی جہازوںکی پروازیں منجمد ہوکر رہے گئیں تھیں ۔ مزدور اپنے اپنے مقامات پرپھنس کررہے گئے ۔ روزگار جاتا رہا تھا۔بھوکوں مرنے لگے تومزدوروں نے اپنے وطن کی سمت پیدل سفر شروع کردیا ۔سینکڑوں میل کڑی دھوپ میں بھوکے پیٹ سفر ہوتا رہا ۔اوراسی دوران سفر کی صعوبتوں کی تاب نہ لاکر کئی مزدور موت کی آغوش میں چلے گئے ۔

’کورونا“ کا یہ دوسرا بھیانک ‘وحشت ناک چہرہ ہے ۔ابھی کرونا کے دفن ہونے کے کوئی امکانات نظر نہیں آتے ۔ پتہ نہیں کرونا کاعذاب کب تک جاری رہے گا؟اس دوران کتنے روپ ظالم کورونا وارد ہوگا! یہ سوچ کر انسانیت سکتے میں ہے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading