جہاں کئی ریاستوں نے نئے موٹر وہیکل ایکٹ کو اپنی ریاست میں لاگو کرنے سے انکار کر دیا ہے وہیں دہلی میں اس قانون کے لاگو ہونے کے پہلے ہی دن 3,900چالان کاٹے گئے۔ دہلی ٹریفک پولس کے افسران نے یہ معلومات فراہم کی ہے کہ اتوار کے روز ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے 3,900 افراد کے چالان کاٹے گئے۔
واضح رہے پارلیمنٹ نے موٹر گاڑی (ترمیم) ایکٹ 2019کو اسی سال جولائی میں منظور کیا ہے اور نئے ایکٹ کے حساب سے جرمانے کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے ۔
راجستھان، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال حکومتوں نے نئے قانون کو اپنی ریاست میں لاگو کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر نے پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری کے لئے دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نہ صرف قوانین میں سدھار کی ضرورت ہے بلکہ جرمانہ میں اضافہ سے ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کے واقعات میں کمی آئے گی ۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا تھا کہ اب یہ ریاستوں کے اوپر ہے کہ وہ اپنے یہاں اسے لاگو کریں یا نہ کریں ۔ کئی ارکان پارلیمنٹ نے اس پر ہوئی بحث کے دوران کہا تھا کہ جرمانہ کی رقم بڑھنے کی وجہ سے سے ٹریفک پولس کی چاندی ہو جائے گی اور بدعنوانی بہت بڑھ جائے گی ۔ کچھ ارکان نے اس کا استقبال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی جو جرمانہ کی رقم ہے وہ اتنی کم ہے کہ اس سے کوئی خوف نہیں ہے اور جب یہ رقم بڑھ جائے گی تو خوف کی وجہ سے کم خلاف ورزی کے واقعات سامنے آئے گی۔
واضح رہے نئے قانون کے مطابق ہیلمٹ نہیں پہننے یا سیٹ بیلٹ نہیں لگانے پر اب ایک ہزار روپے کا جرمانہ ہوگا جو پہلے صرف سو روپے تھا۔ اسی طرح بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے پر پانچ ہزار روپے کا جرمانہ دینا ہوگا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
