مہاراشٹر: ہنگولی ضلع کی 14 ہزار سے زائد خواتین میں کینسر کی علامت، محکمہ صحت میں ہنگامہ برپا

 ہنگولی:مہاراشٹر کے ہنگولی ضلع کی ہزاروں خواتین میں کینسر کی علامت نظر آنے کے بعد محکمہ صحت میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ ’سنجیونی یوجنا‘ کے تحت اسکریننگ میں تقریباً 14.5 ہزار خواتین میں کینسر کی علامت پائی گئی ہے، جس نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت 8 مارچ سے اب تک مجموعی طور پر 2.9 لاکھ خواتین کا سروے کیا گیا، جس میں انھیں کینسر کی علامتوں سے متعلق سوالات کے جواب دینے تھے۔

جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق 14542 خواتین میں کینسر جیسی علامتیں پائی گئی ہیں۔ جب اسکریننگ اور ٹیسٹ کیے گئے، تو 3 خواتین میں حمل کا کینسر، ایک میں بریسٹ کینسر اور 8 میں منھ کے کینسر کا پتہ چلا۔ یہ جانکاری ریاست کے وزیر صحت پرکاش ابتکر نے جمعرات کو اسمبلی میں دی۔

وزیر صحت نے بتایا کہ کینسر کا پتہ لگنے اور اس کے فوری علاج کے لیے ہنگولی ضلع کلکٹر نے مہم چلائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ کینسر کے علاج کے لیے دیہی علاقوں میں طبی کیمپ اور اسکریننگ منعقد کی جاتی ہے۔ حالانکہ خواتین کے لیے الگ سے کینسر ہاسپیٹل قائم کرنے سے متعلق کسی منصوبہ سے وزیر صحت نے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ضلع اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں علاج سے متعلق سہولیات دستیاب کرائی جاتی ہیں اور ٹاٹا میموریل اسپتال کے کینسر ماہرین ہر ماہ 2 مرتبہ 11 ضلع اسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading