مہاراشٹر کے سیاسی بحران کے دوران مسلم سیاسی لیڈرشپ کا عروج

ممبئی 24نومبر(یواین آئی)مہاراشٹر میں ہوئے حالیہ اسمبلی انتخابات میں شردپوار کی قیادت میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) ریاست کی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری اور بھارتی جنتا پارٹی اور شیوسینا اتحاد کے درمیان پھوٹ کے بعد شیوسینا کے بعد تیسری بڑی پارٹی بننے کے نتیجے میں اسےگورنر ہوشیار سنگھ کوشیاری نے سرکار تشکیل دینے کی دعوت پیش کی اور فی الحال راہ کشی جاری ہے،

لیکن اس درمیان این سی پی کی صف سے ایک سیاستدان نواب ملک نے بھی ریاستی ہی نہیں قومی سطح پر اپنی حیثیت اور شناخت بنانے میں زبردست کامیابی ملی ہے۔ نواب ملک ایک بار پھر ٹرامبے اسمبلی حلقہ سے این سی پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی اتھل پتھل اور دل بدلنے کے دور میں پارٹی کے ممبئی صدر سچن اہیر پارٹی چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہوگئے۔ تب شردپوار نے انہیں ممبئی این سی پی کا صدر نامزد کردیا اور حالیہ سیاسی بحران میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ترجمان بھی بن کرابھرے ہیں حالانکہ وہ ایک عرصے سے ترجمان رہے ہیں ،لیکن اس بار وہ قومی سطح کے ترجمان بن گئے ہیں اور بہتر انداز میں ترجمانی کی ہے.

نواب ملک 20 جون 1959کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے ،لیکن 1970 میں ممبئی آئے اور یہیں ان کی پرورش میں ہوئی۔ انہوں نے ممبئی کے مشہور تعلیمی درس گاہ انجمن اسلام ہائی اسکول سے ابتدائی اور سکنڈری کی تعلیم حاصل کی

1978 میں جنوبی ممبئی کے برہانی۔کالج سے بی اے کرنے میں کامیابی حاصل کی،اور سیاسی میدان میں سرگرم ہوگئے اور پہلی بار 1996 میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے ضمنی الیکشن جیت لیااس کے بعد نواب ملک این سی پی میں شامل ہوگئے اور تین مرتبہ 1996, 1999 اور 2004 میں نہرو نگر اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئے ،

2009 میں وہ ایک بار پھر انوشکتی نگر سے کامیاب ہوگئے ،2014 کے اسمبلی انتخابات میں مودی لہر کا وہ بھی شکار بن گئے ،لیکن اس مرتبہ انہوں نے پھر ٹرامبے حلقہ سے کامیابی حاصل کرنے کامیاب ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان۔کا سیاسی قد بڑھ گیا اور ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading