مہاراشٹر میں بڑھتی ہوئی ہندوتوادی کارروائیاں!

✍️: سمیع اللہ خان

مہاراشٹر کے کولہاپور میں، 5 ستمبر کو ایک گاؤں شنگنپور کی گرام پنچایت نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں انتخابی فہرستوں میں نئے مسلم ووٹرز کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کی گئی۔اگر کوئی نیا مسلم ووٹر رجسٹرڈ ہوتا ہے، تو اسے حذف کر دیا جائے گا۔مہاراشٹر میں ہر دوسرے دن ہندوتوادی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف مضبوط ہورہی ہیں ایکناتھ شندے نے وزیراعلی بنتے ہی ہندوتوا گروپوں کو پورے مہاراشٹر میں اتار دیا، جتنی نفرت ایکناتھ شندے کے دور میں مہاراشٹر کے مسلمانوں کے خلاف پھیلائی گئی ہے اتنی ہندوتوادی نفرت دیویندر فڈنویس نے بھی نہیں پھیلائی تھی ۔

دراصل مہاراشٹر کے مسلمانوں میں کئی طرح کی بیماریاں جڑ پکڑ رہی ہیں ورنہ انہیں بہت پہلے احساس ہوجاتا کہ ان کی حالت اس ریاست میں خدا نخواستہ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں مزید ابتر و بدتر ہورہی ہے، مسلمانانِ مہاراشٹر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اکثر جگہوں پر اپنی سماجی قوت کو کھو دیا ہے پہلے ان کا مستقل وجود اور اثر ہوتا تھا لیکن ادھر کچھ سالوں سے مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کا سماجی دیگر ذاتوں میں گم ہوتا جارہا ہے ان کا وجود شیو جینتی اور گنپتی سے جڑنے لگا ہے۔

مہاراشٹر کے مسلمانوں کی دوسری بہت بڑی بیماری یہ ہے کہ اب یہاں پر مسلمانوں کی سیاسی قیادت صدر ہوچکی ہے انڈیا الائنس نے پہلے لوک سبھا میں پھر ایم ایل سی الیکشن میں مسلم نمائندگی کو زیرو پوائنٹ پر رکھا جو اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ خود سیکولر پارٹیوں نے بھی سمجھ لیا ہےکہ مسلمان بحیثیت مہاراشٹرین مسلمان اپنی پہچان کھو رہا ہے،
مہاراشٹر میں مسلمانوں اب اس طرح گروپ در گروپ تقسیم ہوچکا ہے،
ایک گروپ کانگریس کا وفادار اور بےدام غلام
ایک گروپ اجیت پوار کا وفادار
ایک گروپ شرد پوار کا وفادار
ایک گروپ ایکناتھ شندے کا وفادار
اور اب ایک اور گروپ ادھو ٹھاکرے کا وفادار بھی پیدا ہورہا ہے۔
آپ مہاراشٹر کے کسی بھی علاقے میں چلے جائیے آپ کو وفاداریاں ایسی ہی نظر آئیں گی ان سیاسی گروپ بندیوں نے سماجی سطح پر یہاں کے مسلمانوں کو بےوزن کرنا شروع کردیا ہے لیکن انہیں احساس نہیں ہے، اور اگر اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی جائے تو اتنی بڑی بڑی باتیں جواب میں آپ سنیں گے کہ بس سر دھنتے رہ جائیں گے ۔

اب مہاراشٹر میں کوئی ہندو پنڈت ناموسِ رسالت میں گستاخی کرکے وزیراعلی ایکناتھ شندے کے ہاتھوں عزت پاتا ہے پھر کوئی بھاجپائی مہاراشٹر کے مسلمانوں کو مسجدوں میں گُھس کر مارنے کی بات کرتا ہے اور اب گرام پنچایت مسلمانوں کے ووٹنگ حقوق کے خلاف باضابطہ ریزولوشن پاس کررہی ہے، لیکن یہاں کے مسلمانوں کے پاس تیاری کے نام پر ایکناتھ شندے ، اجیت پوار ، شرد پوار، کانگریس اور ادھو ٹھاکرے کی وفاداری کےعلاوہ کچھ بھی نہیں ہے!!!!

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading