مہاراشٹر حکومت مراٹھاطلباءکی طرح مسلم طلباء کوبھی سہولیات مہیا کرائے :نسیم خان کا مطالبہ

ممبئی13مئی (ایجنسیز)مہاراشٹر کے سابق وزیر اور سنیئر کانگریس رہنماء عارف نسیم خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مراٹھا فرقے کے طرز پر مسلم طلباء کو بھی تعلیمی سطح پر سہولیات فراہم کرے۔واضح رہ کہ حال میں حکومت نے مراٹھا گروہ کے طلباء کو پیشہ ورانہ کورسس میں فیس دینے کا فیصلہ لیا اور مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ مسلم طلباء کو بھی یہ سہولت دی جائے۔
واضح رہ کہ بمبئی ہائی کورٹ کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیمی سطح پرکام ریزرویشن دینے کے ایک سابقہ حکمنامہ کو نظرانداز کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے پیشہ ورانہ کورسس کررہے مراٹھا فرقے کے طلباءکو ان کی سالانہ فیس دینے کا فیصلہ کیا ہے ،جوکہ حق بجانب نہیں ہے اور اسی طرزپر مسلم فرقے کوبھی تعلیمی میدان میں ریزرویشن دیا جائے ،یہ مطالبہ کانگریس کے سنیئر لیڈر نے بھی کیا ہے۔

مہاراشٹر میں چند سال قبل سابقہ کانگریس حکومت نے ریاست میں مراٹھا اور مسلمانوں کو معاشی اور تعلیمی میدانوں میں ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا اور بی جے پی کی قیادت میں اتحادی حکومت نے مراٹھا ﺅں کا ریزرویشن دینے کا فیصلہ برقراررکھا ،لیکن مسلمانوں کو دیئے ریزرویشن کو نظرانداز کردیا ،حالانکہ بمبئی ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں حکم دیا تھا کہ مراٹھا فرقے کے بجائے مسلمانوں کو تعلیم میں ریزرویشن ملنا چاہئے ،جس پر حکومت نے عمل نہیں کیا۔اب حکومت نے مراٹھا طلباءکو پیشہ ورانہ کورسس کے لیے فیس دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

عارف نسیم نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کو کورٹ نے مسترد کردیا تھا ،لیکن مسلمانوں کے تعلق سے عدالت عظمیٰ حکم دیا کہ ان کی پسماندگے کے پیش نظر،فرقہ کوانہیں تعلیمی سطح پر ریزرویشن دیاجائے۔لیکن حکومت نے انہیں سہولیات مہیا کرانے کے بجائے ان کا ریزرویشن کا حق ہی چھین لیا ہے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جس طرح مراٹھا سماج کو ریزویشن اور تعلیمی سطح پر سہولیات فراہم کررہی ہے ،اس طرز پر مسلمانوں کو بھی سہولیات باہم فراہم کی جانا چاہئیے تاکہ انکی پسماندگی دورکی جاسکے ۔اس سلسلہ میں انہوں نے کہاکہ سچرکمیٹی نے ملک میں مسلمانوں کی معاشی ،سماجی اور تعلیم پسماندگی کے سلسلے میں آئینہ دکھا دیاہے۔ اس لیے حکومت کو مسلمانوں کی جانب توجہ دینا چاہیئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading